احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 122
تعلیمی پاکٹ بک 122 حصہ اول کے نزدیک نبی کا آنا ممکن تھا اور آیت خاتم النبین آپ کے ماتحت نبی کے آنے میں روک نہ تھی۔حدیث کی صحت وقوت بعض لوگوں نے اس حدیث کو ضعیف قرار دے کر رڈ کرنے کی کوشش کی ہے۔اور بعض نے اس کے یہ معنی لے کر کہ گویا صاحبزادہ ابراہیم اسی لئے فوت ہو گئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا تھا۔ان معنی میں اسے قبول کیا ہے۔حضرت امام علی القاری ان لوگوں کے خیالات کو ر ڈ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔لَوْعَاشَ وَصَارَ نَبِيًّا وَكَذَا لَوْ صَارَ عُمَرُ نَبِيًّا لَكَانَا مِنْ أَتْبَاعِةٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ۔ترجمه: اگر صاحبزاده ابراهیم زندہ رہتے اور نبی ہو جاتے اور اسی طرح اگر حضرت عمر نبی ہو جاتے تو وہ دونوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین میں سے ہوتے۔یہ لکھ کر آگے اس اعتراض کا جواب کہ کیا ان کا نبی ہو جانا خاتم النبیین کے خلاف نہ ہوتا یوں دیتے ہیں۔فَلَا يُنَا قِضُ قَوْلُهُ تَعَالَى خَاتَمَ النَّبِيِّينَ إِذَا الْمَعْنَى أَنَّهُ لَا يَأْتِي نَبِيٌّ بَعْدَهُ يَنْسَخُ مِلَّتَهُ وَلَمْ يَكُنْ مِنْ أُمَّتِه۔(موضوعات كبير صفحه 58، 59 مطبوعه مطبع مجتبائی دهلی) ترجمه صاحبزادہ ابراہیم کا نبی ہو جانا آیت خاتم النبیین کے خلاف اس لئے نہ ہوتا کیونکہ خاتم النبین کے یہ معنی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے