احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 80
تعلیمی پاکٹ بک 80 (8) غلام احمد صاحب پرویز ایڈیٹر ماہنامہ طلوع اسلام دو -1 حصہ اول آپ نے وفات مسیح پر اپنی تصانیف میں سیر حاصل بحث کی ہے۔شعلہء مستور“ میں آپ لکھتے ہیں۔تصریحات بالا سے یہ حقیقت سامنے آ گئی کہ قرآن کریم نے کس طرح یہودیوں اور عیسائیوں کے اس خیال اور باطل عقیدہ کی تردید کر دی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو صلیب دیا گیا تھا۔باقی رہا عیسائیوں کا یہ عقیدہ کہ آپ زندہ آسمان پر اٹھالئے گئے تھے تو قرآن سے اس کی بھی تائید نہیں ہوتی بلکہ اس میں ایسے شواہد موجود ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ آپ نے دوسرے رسولوں کی طرح اپنی مدت عمر پوری کرنے کے بعد وفات پائی۔شعله مستور شائع کرده اداره طلوع اسلام لا ہور صفحہ 80 زیر عنوان وفات مسیح) حقیقت یہ ہے کہ حضرت عیسی کے زندہ آسمان پر اُٹھالئے جانے کا تصوّر مذہب عیسائیت میں بعد کی اختراع ہے۔یہودیوں نے مشہور کر دیا ( اور بظاہر نظر بھی ایسا ہی آتا تھا ) کہ انہوں نے حضرت مسیح کو صلیب پر قتل کر دیا ہے حواریوں کو معلوم تھا کہ حقیقت حال یہ نہیں لیکن وہ بھی بہ تقاضائے -2 مصلحت اس کی تردید نہیں کر سکتے تھے۔(شعله مستور صفحه 90 زیر عنوان رفع الى السماء ) (9) سید ابوالاعلیٰ مودودی نے وفات مسیح کا اقرار تو نہیں کیا لیکن وہ لکھتے ہیں:۔قرآن کی رُو سے زیادہ مطابقت اگر کوئی طرز عمل رکھتا ہے تو وہ صرف یہی ہے کہ رفع جسمانی کی تصریح سے بھی اجتناب کیا جائے اور موت کی تصریح سے بھی بلکہ مسیح علیہ السلام کے اٹھائے جانے کو اللہ تعالیٰ کی قدرت قاہرہ کا