احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 507
507 حصہ دوم واضح ہو کہ حقیقۃ الوحی صفحہ 390 پر جو دو باتیں مذکور تھیں انہی دو باتوں کا ذکر اس حوالہ میں بھی مذکور ہے۔اول۔بعض افراد امت کو مکالمہ مخاطبہ الہیہ نصیب ہونا۔دوم۔رسولوں کی یہ خصوصیت کہ انہیں خدا کے خاص غیب پر اطلاع دی جاتی ہے۔رسولوں کی یہ خصوصیت آیت لَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِةٍ إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ سے ہی اخذ کردہ معلوم ہوتی ہے۔جس میں رسول کے لئے اظہار علی الغیب یعنی کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع دیا جانا ضروری قرار دیا گیا ہے۔اظہار علی الغیب کا صلہ جب علی ہو۔اس سے مراد غلبہ دینا ہوتا ہے۔پس رسول کو دوسرے م مہمین کے مقابل خدا اُمور غیبیہ پر غلبہ دیتا ہے۔یعنی ان کے مقابلہ میں رسولوں کو کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع دیتا ہے۔گو مکتوبات میں کثرت کا لفظ نہیں۔لیکن ”چنانچہ برعلم غیب کہ مخصوص بادست سُبحانہ تعالیٰ کے فقرہ سے بکثرت اطلاع دیا جانا ہی مراد ہو سکتی ہے۔کیونکہ جس آیت سے یہ مضمون لیا گیا ہے۔اس میں کثرت شرط ہے۔کسی صحیح حدیث میں مسیح کے نزول کے ساتھ اعتراض نمبر 25 السَّماء کا لفظ موجود نہیں مرزا صاحب نے حمامۃ البشری میں دعوی کیا ہے کہ مسیح کے متعلق کسی حدیث میں یہ لفظ نہیں کہ وہ آسمان سے اُترے گا۔ان کی یہ بات غلط ہے کیونکہ احادیث میں مسیح کے نزول کے ساتھ آسمان کا لفظ بھی موجود ہے۔