احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 465 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 465

یتعلیمی پاکٹ بک زبان میں سُن سکتی ہیں۔465 حصہ دوم عیسائیوں اور برہموسما جیوں وغیرہ کے اسی غلط نظریہ کی تردید میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر یہ الہام نازل ہوا کہ:۔اس نشان کا مدعا یہ ہے کہ قرآن شریف خُدا کی کتاب اور میرے (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 87) منہ کی باتیں ہیں“ قرآن مجید خُدا کے منہ کی باتیں ہیں ! ”میرے منہ کی باتیں ہیں“ سے مراد یہ ہے کہ یہ خدا کے منہ کی باتیں ہیں۔یعنی خدا بتا رہا ہے کہ قرآن لفظاً نازل ہوا ہے نہ یہ کہ اس کا مفہوم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں ڈالا گیا۔جو آپ نے اپنے الفاظ میں بیان کیا۔بعض لوگ بے سمجھی سے اس الہام پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ مرزا صاحب نے قرآن مجید کو اپنے منہ کی باتیں کہا ہے۔حالانکہ یہ فقرہ مرزا صاحب علیہ السلام کا اپنا کلام ہے ہی نہیں بلکہ خدا کا کلام ہے۔ان کو مغالطہ اس سے لگا ہے کہ پہلے فقرہ میں خدا کا ذکر بصیغہ غائب ہے اور دوسرے فقرہ میں بصیغہ متکلم۔الہامی زبان میں خدا کا یہ طریق ہے کہ کبھی وہ غائب سے متکلم کی طرف بھی التفات کرتا ہے۔چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَاللهُ الَّذِى اَرْسَلَ الرِّيحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَسُقْنُهُ إِلَى بَلَدٍ مَّيْتٍ - (فاطر: 10) یعنی خداوہ ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے۔پس وہ بادل کو اُٹھاتی ہیں۔پھر ہم (یعنی خدا) اسے مُردہ علاقہ کی طرف ہانک دیتے ہیں۔دیکھئے اس آیت میں غائب سے متکلم کی ضمیر کی طرف التفات ہے۔