احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 382 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 382

احمدیہ علیمی پاکٹ بک 382 حصہ دوم مجہتدوں کا تو یہی فتویٰ ہے کہ یہ دارالاسلام ہے۔اور جب یہ ملک دار الاسلام ہوا تو پھر یہاں جہاد کرنا کیا معنی؟ بلکہ عزم جہاد ایسی جگہ ایک گناہ ہے بڑے گناہوں سے اور جن لوگوں کے نزدیک یہ دارالحرب ہے۔جیسے بعض علماء دہلی وغیرہ۔ان کے نزدیک بھی اس ملک میں رہ کر اور یہاں کے حکام کی رعایا اور امن و امان میں داخل ہو کر کسی سے جہاد کرنا ہرگز روا نہیں جب تک کہ یہاں سے ہجرت کر کے کسی دوسرے ملک اسلام میں جا کر مقیم نہ ہو۔غرض یہ کہ دار الحرب میں رہ کر جہاد کرنا اگلے پچھلے مسلمانوں میں سے کسی کے نزدیک ہرگز جائز نہیں۔( ترجمان وہابیہ صفحہ 15 مطبع محمدی لاہور ) (ز) مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ایڈووکیٹ اہل حدیث اپنے رسالہ اشاعۃ السنة“ میں لکھتے ہیں :۔وو سلطان (روم) ایک اسلامی پادشاه ولیکن امنِ عام وحسنِ انتظام کی نظر سے ( مذہب سے قطع نظر ) برٹش گورنمنٹ بھی ہم مسلمانوں کے لئے کچھ کم فخر کا موجب نہیں ہے اور خاص کر گروہ اہل حدیث کے لئے تو یہ سلطنت بلحاظ امن و آزادی اس وقت کی تمام اسلامی سلطنتوں (روم، ایران ، خراسان) سے بڑھ کر فخر کا محل ہے۔(رسالہ اشاعة السنة جلد 6 صفحه 292 پھر اسی رسالہ کے صفحہ 293 پر لکھتے ہیں:۔اس امن و آزادی عام وحسن وانتظام برٹش گورنمنٹ کی نظر سے اہل حدیث ہند اس سلطنت کو از بس غنیمت سمجھتے ہیں۔اور اس سلطنت کی رعایا ہونے کو اسلامی سلطنتوں کی رعایا ہونے سے بہتر جانتے ہیں۔اور جہاں کہیں وہ رہیں یا جائیں ( عرب میں خواہ روم میں خواہ اور کہیں ) کسی اور ریاست کا محکوم ور عایا ہونا نہیں چاہتے۔(رسالہ اشاعۃ السنة جلد 6 صفحہ 293)