احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 349 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 349

احمدیہ علیمی پاکٹ بک 349 حصہ دوم ان فتووں سے ایسے ہم سے متنفر ہو گئے کہ ہم سے سیدھے منہ سے کوئی نرم بات کرنا بھی اُن کے نزدیک گناہ ہو گیا۔کیا کوئی مولوی یا کوئی اور مخالف یا کوئی سجادہ نشین یہ ثبوت دے سکتا ہے کہ پہلے ہم نے ان لوگوں کو کافر ٹھہرایا تھا۔اگر کوئی ایسا کاغذ ، یا اشتہار یا رسالہ ہماری طرف سے ان لوگوں کے فتوائے کفر سے پہلے شائع ہوا ہے جس میں ہم نے مخالف مسلمانوں کو کافر ٹھہرایا ہو تو وہ پیش کریں۔ورنہ خود سوچ لیں کہ یہ کس قدر خیانت ہے کہ کافر تو ٹھہرا دیں آپ اور پھر ہم پر یہ الزام لگاویں کہ گویا ہم نے تمام مسلمانوں کو کافر ٹھہرایا ہے۔اس قدر خیانت اور جھوٹ اور خلاف واقعہ تہمت کس قدر دل آزار ہے۔ہر ایک عظمند سوچ سکتا ہے۔اور پھر جبکہ ہمیں اپنے فتووں کے ذریعے سے کافر ٹھہر اچھکے اور آپ ہی اس بات کے قائل بھی ہو گئے کہ جو شخص مسلمان کو کافر کہے تو گفر الٹ کر اُسی پر پڑتا ہے۔تو اس صورت میں کیا ہمارا حق نہ تھا کہ بموجب انہی کے اقرار کے ہم ان کو کافر کہتے“۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 123-124 ) پس کفر کے فتووں میں نماز اور مناکحت اور جنازہ وغیرہ کے فتووں میں تقدیم ( پہل ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے نہیں ہوئی۔آپ کے فتاوی جوابی ہیں اور وہ بھی قرآن مجید کی آیت جَزَ و سَيِّئَةِ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا کی روشنی میں نہ کسی شریعت جدیدہ کے ماتحت۔لہذا آپ پر شریعت مستقلہ کا الزام سراسر دروغ بے فروغ ہے۔بالآخر یہ عرض ہے کہ باوجود مسلمان علماء کے جماعت احمدیہ پر کفر کا فتویٰ لگانے کے ہم انہیں ملتِ اسلامیہ کے افراد ہی جانتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ ہمارے پیارے آقا ومولا سیدالانبیاء فخر المرسلین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم