احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 12
تعلیمی پاکٹ بک 12 حصہ اوّل معنے نکلتے ہیں اور ان معنوں سے جو ہم لیتے ہیں وہ مضمون فاسد ہوتا ہے یعنی وہ حدیث یا وہ شعران معنوں پر قطعیۃ الدلالت ہے کیونکہ اگر اس حدیث یا اس شعر میں ہمارے معنوں کا بھی احتمال ہے تو ایسی حدیث یا ایسا شعر ہرگز پیش کرنے کے لائق نہ ہوگا کیونکہ کسی فقرہ کو بطور نظیر پیش کرنے کے لئے اس مخالف مضمون کا قطعیۃ الدلالت ہونا شرط ہے۔:2 (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 384) ط وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللهُ وَاللهُ خَيْرُ الْمُكِرِينَ۔إِذْ قَالَ اللهُ يُعِيْنَى إِنِّى مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى وَمُطَهَّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إلى يَوْمِ الْقِيمَةِ - آل عمران : 55 56 ترجمہ: اور ان (یہود نے) تدبیر کی اور اللہ نے بھی تدبیر کی اور اللہ تدبیر کرنے والوں میں سے بہتر ہے جب کہا اللہ نے اے عیسی ! میں (ہی) تجھے وفات دینے والا ہوں اور تجھے اپنی طرف رفعت دینے والا ہوں اور تجھے ان لوگوں سے جنہوں نے کفر کیا پاک کرنے والا ہوں اور بنانے والا ہوں ان لوگوں کو جنہوں نے تیری پیروی کی ، غالب ان لوگوں پر جنہوں نے کفر کیا قیامت کے دن تک کے لئے۔استدلال: یہود کی تدبیر یہ تھی کہ مسیح علیہ السلام صلیب پر مارے جائیں۔خدا کی تدبیران کو صلیب سے بچانا تھی۔سوخدا نے انہیں اپنی تدبیر سے بچالیا نہ کہ زندہ آسمان پر اٹھانے کا معجزہ دکھا کر۔کیونکہ آسمان پر زندہ اٹھالینا دشمنوں کے مقابلہ میں تدبیر نہیں اعجاز اور قدرت نمائی ہے۔