احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 228 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 228

احمد یہ تعلیمی یا کہ پاکٹ بک 228 صلح حدیبیہ کا واقعہ حصہ دوم صلح حدیبیہ کا واقعہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ انبیاء سے اجتہادی خطا کے واقع ہونے میں خدا تعالیٰ کو خاص حکمتیں اور مصلحتیں بھی مد نظر ہوتی ہیں۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے رویا میں دکھایا کہ مسلمان بے خوف ہوکر بالکل امن سے خانہ کعبہ کا طواف کر رہے ہیں اور سرمنڈوا کر احرام کھول رہے ہیں۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صحیح بخاری کی حدیث کے مطابق چودہ سو صحابہ کی جماعت کے ساتھ عمرہ (چھوٹے حج) کے لئے روانہ ہو گئے۔جب حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو مشرکین مکہ نے آپ کا داخلہ روک دیا۔چونکہ رویا بتاتی تھی کہ مکہ میں داخلہ امن سے ہوگا اور کوئی خوف نہیں ہوگا۔اس لئے صحابہ کو تلوار کے علاوہ دیگر اسلحہ ساتھ لے جانے کی اجازت نہ تھی۔حدیبیہ کے مقام پر مشرکین مکہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کومشرکین کی خواہش پر ایک صلح کا معاہدہ کرنا پڑا جس میں شرط تھی کہ مسلمان اگلے سال آئیں تو اجازت دی جائے گی۔صلح کی شرائط میں مشرکین نے یہ شرط بھی پیش کی کہ اگر مکہ کا کوئی شخص مسلمان ہو کر مدینہ جائے گا تو اُسے واپس کرنا پڑے گا۔اور اگر مدینہ سے کوئی مکہ آئے گا تو اُسے واپس نہیں کیا جائے گا۔یہ شرط مساویانہ نہ تھی۔اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ مسلمان اگر اس شرط کو قبول کرلیں تو گویا وہ مشرکین سے دب کر صلح کرنے والے ہوں گے۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منشاء الہی سے یہ شرطیں مان لیں اور مشرکین سے صلح کا معاہدہ ہو گیا۔اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر خدا تعالیٰ نے منکشف فرمایا کہ یہ شرائط مسلمانوں کے لئے کوئی نقصان دہ نہیں۔چنانچہ بالآخر یہی شرائط خود مشرکین کے لئے وبال بن گئیں۔انہوں نے اس معاہدہ کی