احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 100 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 100

تعلیمی پاکٹ بک 100 حصہ اوّل ترجمہ : حضرت عیسی علیہ السلام کے نبی ہونے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہونے میں کوئی منافاة ( تضاد ) نہیں اس صورت میں کہ وہ آپ کی شریعت کے احکام بیان کریں۔اور اس شریعت کی طریقت کو پختہ کریں خواہ وہ یہ کام اپنی وحی کے ذریعہ کریں جیسا کہ حدیث لَوْ كَانَ مُوسَىٰ حَيًّا لَمَا وَسِعَه إِلَّا اتَّبَاعِی (اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو انہیں میری پیروی کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا ) اس طرف اشارہ کر رہی ہے ( کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع نبی کا آنا ممتنع نہیں۔ناقل ) مراد اس حدیث سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ہے کہ موسیٰ وصف نبوت اور رسالت کے ساتھ زندہ ہوتے ورنہ نبوت اور رسالت چھن جانے کے ساتھ (ان کا تابع ہونا) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کو کوئی فائدہ نہیں دیتا۔پس جماعت احمد یہ اہل سنت کے تمام فرقوں سے اس بات میں اصولی طور پر متفق ہے کہ امت محمدیہ کا مسیح موعود نبی اللہ ہوگا۔اگر اختلاف ہے تو اس پہلو میں کہ جماعت احمدیہ اور بعض اور لوگ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ آیت استخلاف کے الفاظ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ (النور: 56) کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام اُمتِ محمدیہ میں اصالتا نہیں آ سکتے بلکہ ان کا مثیل نبی اللہ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ ہونے والا ہے اور یہ اختلاف جزوی ہے جن لوگوں پر وفات مسیح کی حقیقت کھل جائے ان کو بالآخر ہمارے ساتھ اتفاق کرنا پڑتا ہے کہ حدیثوں کا موعود عیسی اُمتِ محمدیہ کا ایک فرد ہونا چاہئے۔امام علی القاری کی طرح حضرت بانی سلسلہ احمدیہ بھی فرماتے ہیں۔شریعت والا نبی کوئی نہیں آ سکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے مگر 66 وہی جو پہلے امتی ہو۔(تجلیات الہیہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 412)