احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 91
تعلیمی پاکٹ بک 91 میں ابوسفیان نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں یہ فقرہ کہا۔لَقَدْ أَمِرَ اَمْرُ ابْنِ أَبِي كَبُشَةَ يَخَافُهُ، مَلِكَ بَنِي أَصْفَرِ۔حصہ اول (بخاری کتاب بدء الوحى باب كيف كان بدء الوحي ) کہ ابن ابی کبشہ کا کام تو خوب بن گیا کہ رومیوں کا بادشاہ بھی اس سے ڈرتا ہے۔اس فقرہ میں اعلانِ توحید میں ابن ابی کبشہ سے مشابہت کی وجہ سے ابوسفیان نے استعارہ کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ابن ابی کبشہ قرار دیا ہے حالانکہ آپ محمد بن عبداللہ تھے۔حیی علیہ السلام ایلیا کے بُروز بائبل میں ایلیا (الیاس علیہ السلام) کے آنے کی پیشگوئی کو حضرت عیسی علیہ السلام نے یوحنا ( یحیی علیہ السلام) کے وجود میں پورا ہونا قرار دیا ہے جس سے یہی مراد ہے کہ وہ بیٹی علیہ السلام کو ایلیا کا بر وز قرار دیتے ہیں۔تفصیل اس کی یوں ہے : کتاب ملا کی باب 4 آیت 5 میں لکھا ہے : دیکھو خداوند کے بزرگ اور ہولناک دن کے آنے سے پیشر میں ایلیا نبی کو تمہارے پاس بھیجوں گا۔اس سے یہودی یہ سمجھتے تھے کہ ایلیا کا سچے مسیح سے پہلے آسمان سے آنا ضروری ہے۔کتاب سلاطین کے مطابق ان کا عقیدہ تھا کہ ایلیا رتھ سمیت بگولے میں سوار ہو کر آسمان پر چلا گیا۔2۔سلاطین باب 2 آیت 12) مسیح سے سوال کیا گیا کہ اگر تم سچے ہو تو ایلیا کہاں ہے؟ مسیح نے یوحنا کو ایلیا قرار دیتے ہوئے جواب دیا۔