احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں

by Other Authors

Page 9 of 42

احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں — Page 9

اسی طرح عدالت نے لکھا:۔مولوی محمد علی جالندھری نے ۱۵ فروری ۱۹۵۳ء کو لاہور میں تقریر کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ احرار پاکستان کے مخالف تھے۔اس مقرر نے تقسیم سے پہلے اور تقسیم کے بعد بھی پاکستان کے لئے پلیدستان کا لفظ استعمال کیا اورسید عطاء اللہ شاہ بخاری نے اپنی تقریر میں کہا۔پاکستان ایک بازاری عورت ہے جس کو احرار نے مجبوراً قبول کر لیا ہے۔“ (رپورٹ تحقیقاتی عدالت ، صفحه ۲۷۴) اسی طرح رپورٹ کے صفحہ ۱۵۰٬۱۴۹ پر لکھا:۔ان (احراریوں) کے ماضی سے ظاہر ہے کہ وہ تقسیم سے پیشتر کانگرس اور ان دوسری جماعتوں سے مل کر کام کرتے تھے جو قائد اعظم کی جدوجہد کے خلاف صف آراء ہو رہی تھیں۔۔اس جماعت نے دوبارہ اب تک پاکستان کے قیام کو دل سے گوارہ نہیں کیا۔“ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور مجلس احرار کے تاریخی رشتوں اور پاکستان کے بارہ میں ان کے رویوں کی مختصر طور پر نشاندہی کے بعد اب ہم اس کتاب کا جائزہ لیتے ہیں جو قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی کارروائی کے طور پر شائع کی گئی ہے۔(۵) اڑنے سے پیشتر بھی ترا رنگ زرد تھا بات دراصل یہ ہے کہ موصوف اور ان کی قبیل کے دوسرے حضرات اس بات کا حوصلہ ہی نہیں رکھتے کہ جماعت احمدیہ کا مؤقف یا جماعت احمدیہ کے ایمان و اعتقاد کے بارے میں جماعت احمدیہ کا اپنا بیان اور ان کی اپنی وضاحت عوام الناس تک پہنچے۔یہ حضرات سیاق و سباق سے کاٹ کر عبارت پیش کر کے عوام کو گمراہ کرتے رہتے ہیں، کبھی پوری تحریر پیش نہیں کرتے اور اس بات کی تاب نہیں لا سکتے کہ کوئی اُن کی پیش کردہ کسی گمراہ کن عبارت کو اس کے سیاق وسباق میں پیش کر کے ان کے فریب کا طلسم توڑ دے۔اس لئے ان کی ساری کوشش اس بات پر مرکوز رہتی ہے کہ احمدیوں کی تبلیغ پر پابندی ہو، لٹریچر پر پابندی ہو اور ان سے معاشرتی تعلقات پر پابندی ہو تا کہ لوگ نام نہاد علماء کی فریب دہی کی تہہ تک نہ پہنچ جائیں۔اپنی ” قومی اسمبلی میں قادیانی مقدمہ کی کارروائی میں بھی اللہ وسایا موصوف کو اجمال کی ضرورت اس لئے ہی پیش آئی کہ جو وضاحتیں امام جماعت احمدیہ نے پیش کیں وہ عوام کے سامنے نہ آجائیں۔یہ حضرات عوام کو یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ احمدیوں کو پورا موقع دیا گیا اور مولوی حضرات نے گویا قادیانیت جیسے کفر کو چاروں شانے چت کیا مگر اس کارروائی کی تفصیلات جوان کی عظیم فتح کی آئینہ دار ہیں عوام کے سامنے لانے کو تیار نہیں۔خود ان کی کتاب سے ظاہر ہے کہ ان کی پوری کوشش یہ رہی کہ قومی اسمبلی میں بھی جماعت احمدیہ کا پورا موقف سامنے نہ آنے پائے۔ان کی کوششوں کی راہ میں حضرت مرزا ناصر احمد صاحب امام جماعت احمدیہ کی شخصیت، ان کا علم اور ان کی فراست ایک نور کی دیوار بن کر حائل ہو گئی تھی جو ان کی پیدا کردہ شرارتوں اور ظلمتوں کو پاش پاش کر رہی تھی۔ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کیسے امام جماعت احمدیہ کے بیان کو اور اس کی تا ثیرات کو ماند کر سکیں۔ان کی اس کوشش کی جھلک اللہ وسایا موصوف کی مرتب کردہ کتاب میں جگہ جگہ نظر آتی ہے۔اللہ وسایا موصوف نے اپنی گمراہ کن کارروائی کے ذریعہ جو کچھ انصاف پسند قارئین کی نظر سے پوشیدہ رکھنے کی کوشش کی ہے اس کا جائزہ تو ہم آگے چل کر لیں گے۔فی الحال کچھ مختصر نشاندہی اُن امور کی بھی ہو جائے جو ان کی کتاب میں گو یا سطح پر ہی تیرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور جنہیں وہ تہ دامن چھپا نہیں سکے گو اس کی کوشش بہت کی۔جو باتیں اس کتاب سے ظاہر ہیں وہ یہ ہیں:۔(۱) کارروائی کے دوران اسمبلی میں علماء میں سے مفتی محمود صاحب، غلام غوث ہزاروی صاحب، مصطفیٰ الا زہری صاحب، ظفر احمد انصاری صاحب اور شاہ احمد نورانی صاحب گویا دیو بندی، بریلوی، از ہری ہر طبقہ فکر کے علماء موجود تھے جو اٹارنی جنرل جناب حي بختیار کو سوالات تیار کر کے دیتے تھے۔(۲) ارکانِ اسمبلی کو جماعت احمدیہ کا پیش کردہ محضر نامہ مل چکا تھا اور وہ اس کے مندرجات سے بخوبی واقف تھے۔(۳) اللہ وسایا کی شائع کردہ کارروائی سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ محضر نا مے اور بحث کا جو اصل موضوع تھا اس پر علماء کو سانپ سونگھ گیا تھا۔گیارہ دنوں کی جرح کے دوران ان علماء حضرات نے کوئی ایک سوال بھی محضر نامے میں اٹھائے گئے علمی سوالات کے بارے میں نہیں کیا۔کسی ایک حوالے کی نشاندہی بھی علماء نے اٹارنی جنرل کے ذریعہ نہیں کروائی کہ آئمہ سلف کے جو