احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں — Page 4
۱۳ دن کی کارروائی کی جو نا مکمل رپورٹ ممبران اسمبلی کو مہیا کی جاتی رہی اس کا حجم بھی دو اڑھائی ہزار صفحات سے کم نہیں تھا۔جرح کے دوران حضرت مرزا ناصر احمد صاحب آیات قرآنی احادیث اور عربی حوالہ جات پڑھتے رہے جو کارروائی قلمبند کرنے والا عملہ قلمبند نہیں کر پاتا تھا اور کارروائی میں وہ حصے درج نہیں ہوتے تھے۔حضرت مرزا ناصر احمد صاحب نے طویل اقتباسات اسمبلی میں پڑھ کر سنائے تھے جن میں سے کسی کا بھی اللہ وسایا کی شائع کردہ کارروائی میں پتہ نہیں ملتا۔بسا اوقات سوالات انگریزی زبان میں ہوتے تھے اور وہ انگریزی ہی میں درج تھے ان کا کوئی ذکر اس کارروائی میں نہیں ملتا۔حضرت مرزا ناصر احمد صاحب نے بعض سوالات کے جواب میں تحریری بیان بھی داخل کئے تھے وہ تحریری بیان کیا تھے، وہ کہاں ہیں؟ ان کا بھی یہاں کوئی ذکر نہیں ملتا۔وہ تفصیل سے اپنی بات سمجھانے کے لئے بیان دیتے رہے اور اراکین اسمبلی ان کے جوابات سے اتنے متاثر تھے کہ جناب مفتی محمود کی نیند اڑ گئی۔اس بارہ میں مفتی محمود صاحب کا شائع شدہ اقرار موجود ہے۔قومی اسمبلی کے روبرو کارروائی کے دوران اپنے محضر نامہ میں بھی اور جرح کے دوران سوالات کے جواب میں بھی امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب نے دیوبندی مسلک کے بزرگ مولانا قاسم نانوتوی، بریلوی مسلک کے بزرگ مولانا احمد رضا خان بریلوی، اہلِ حدیث مسلک کے بزرگ نواب صدیق الحسن خان صاحب کے حوالہ جات اور دیگر بزرگان کے طویل حوالہ جات پیش کئے اور پڑھ کر سنائے تھے، جن کا ان دنوں قومی اسمبلی کے اراکین میں بڑا چر چا تھا۔اللہ وسایا کی شائع کردہ مبینہ کارروائی میں ان حوالہ جات کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔اگر واقعی ان کے پاس مکمل کارروائی موجود ہے تو ان حصوں کو شائع نہ کرنا صریح بد دیانتی ہے۔آخر قومی اسمبلی میں بلانے کا مبینہ مقصد یہی تھا کہ جماعت احمدیہ کو اپنا موقف بیان کرنے کا موقع دیا جائے۔جو وضاحتیں دی گئیں اگر وہ غائب کر دی جائیں تو سمجھا یہی جائے گا کہ ان وضاحتوں سے احمدیوں کے خلاف گمراہ کن پراپیگینڈے کا تار پود بکھر کر رہ گیا تھا۔ورنہ وہ وضاحتیں جو بقول انکے مکمل کارروائی میں ان کے پاس موجود ہیں انہوں نے اپنی کتاب میں شائع کیوں نہیں کیں۔اور اگر مکمل ریکارڈ موجود نہیں ہے تو اپنی کتاب کو مکمل ریکارڈ کا نام کیوں دیا ؟ ختم نبوت کے مقدس نام پر دین کی خدمت کے لئے نکلے ہیں تو یہ دھوکہ دہی اور فریب کیوں؟ بدقسمتی سے وطن عزیز ان دنوں مذہبی منافرت اور عدم رواداری کی گرفت میں ہے۔رواداری ، برداشت اور صبر تحتمل عنقاء ہیں۔منافرت کی فتنہ سامانیاں آزاد اور بے لگام ہیں۔معقولیت اور اعتدال پسندی تشدد کے ہاتھوں یرغمال بن چکے ہیں۔احمدیوں پر پابندیاں، مقدمات کی بھر مار تبلیغ پر پابندی، اخبارات و جرائد پر پابندی، اللہ وسایا صاحب سیاسی اقتدار کی ساز باز سے ان سب زنجیروں کا بندوبست کر کے احمدیوں کو للکارتے پھرتے ہیں۔اگر واقعی خود پر بھروسہ ہے تو احمدیوں کے ساتھ مل کر یہ مطالبہ کریں کہ احمدیوں کے جرائد اور رسائل پر پابندیاں ختم کی جائیں اور تبلیغ پر پابندی ختم کی جائے تو خوب کھل جائے گا کہ کس کے نصیب میں شکست اور کس کے مقدر میں آسمان نے فتح لکھ دی ہے۔اس طرح کی جعلسازی اور مفسدانہ کاروائیوں سے حق نہ کبھی چھپا ہے اور نہ بھی چھپے گا۔(۲) قانونی حیثیت دنیا جانتی ہے یہ بات اسمبلی کے ریکارڈ پر موجود ہے کہ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی کارروائی خفیہ تھی۔خفیہ کیوں رکھی گئی ؟ آیا خفیہ رکھا جانا مناسب تھا یا نہیں، یہ ایک الگ سوال ہے۔جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے وہ بار ہا یہ مطالبہ کر چکی ہے کہ یہ کارروائی شائع ہونی چاہیے، مگر امر واقع یہ ہے کہ اسمبلی کی کارروائی شائع نہیں کی گئی۔ایسی کارروائی جو اسمبلی کے قواعد کی رو سے خفیہ رکھی جائے اس کا رروائی کا ریکارڈ رکھنا یا اس کی رپورٹ تیار کرنا صرف قومی اسمبلی کے سپیکر کے اختیار میں ہے اور قواعد کی رو سے کسی دیگر شخص کو یہ اختیار اور اجازت نہیں کہ وہ کوئی نوٹ رکھے یا اس کو گلی یا جزوی طور پر ریکارڈ کرے یا اس کی رپورٹ کا کوئی حصہ اشاعت کے لئے جاری کرے یا اس کو ظاہر کرے یا اس کی کارروائی کی کوئی ایسی رپورٹ جاری کرے جو مزعومہ طور پر اسمبلی کی کارروائی سمجھی جائے۔ایسی خفیہ کارروائی پر سے پابندی اٹھانے کا اختیار صرف اسمبلی کو ہے اور اس پابندی اٹھانے کا تحرک قائد ایوان کی طرف سے ہونا ضروری ہے۔قائد ایوان کی تحریک جب منظور ہو جائے تو بھی کارروائی کی رپورٹ سپیکر کی زیر ہدایت سیکرٹری جنرل ہی تیار کر واسکتا۔قومی اسمبلی کے متعلقہ قواعد درج ذیل ہیں۔ہے۔