احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں

by Other Authors

Page 15 of 42

احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں — Page 15

آگے چل کر اسی تسلسل میں کہا:۔” جناب والا! جب یہ مقدس ہستی کمیٹی کے روبرو پیش ہوئی تو سوال پیدا ہوا، بہر حال میں اس تفصیل میں نہیں جاؤں گا کہ جو مرزا صاحب کی نبوت کو نہیں مانتے ، ان کے بارے میں انہوں نے کیا کہا ہے۔مرزا صاحب نے کہا کہ ایسے لوگ کافر ہیں۔اس کا مطلب کیا ہے؟ اس (مرزا ناصر احمد) نے جواب دیا ” کافر سے مراد ایسا شخص نہیں جسے منحرف یا مرتد قرار دیا جائے یا ایسا تارک الدین شخص جسے اسلام کے دائرے سے خارج کرنا پڑے، بلکہ ایسے کافر سے مراد ایک قسم کا گنہگار ہے یا ثانوی درجے کا کا فر۔وہ پیغمبر اسلام ﷺ پر تو ایمان رکھتا ہے اس لئے مرزا ناصر احمد کے بقول ایسا شخص (جومرزا غلام احمد کی نبوت کا انکار کرتا ہے ) ملت محمدیہ کے اندر تو رہے گا مگر وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا۔یہ ایک ایسی بات ہے جسے میں بالکل نہیں سمجھ سکا۔میں نے یہ بات سمجھنے کی انتہائی کوشش کی، جب ایک شخص کا فر ہو جاتا ہے تو وہ کیسے دائرہ اسلام سے خارج ہے مگر ملت محمد یہ سے باہر نہیں آخر اس کا مطلب کیا ہے؟ کئی روز تک ہم اس مشکل میں مبتلا رہے۔“ (صفحہ ۳۰۷۳۰۱) فاضل اٹارنی جنرل کو جس دشواری کا سامنا تھا اس کی وجہ بڑی واضح ہے۔اسمبلی کی کارروائی کی ، جو صورت بھی شائع کی گئی ہے، کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب دو تین دن تک بار بار گھما پھرا کر ہر پہلو سے ، ہر انداز سے امام جماعت احمدیہ سے یہ کہلوانے کی کوشش کرتے رہے کہ جملہ مسلمان مطلقاً کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔حضرت مرزا ناصر احمد صاحب نے اٹارنی جنرل کی اس کوشش کو ہر لحاظ سے نا کام کیا۔یہ وہ مشکل ہے جس کا سامنا اٹارنی جنرل کو کرنا پڑا۔ملاحظہ ہو : - اٹارنی جنرل : قرآن وحدیث کی رُو سے کا فردائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔مرزا ناصر : قرآن وحدیث میں دائرہ اسلام کا محاورہ نہیں ہے۔اٹارنی جنرل : مسلمان رہتا ہے یا نہیں۔اگر مسلمان نہیں رہتا تو وہ اسلام کے دائرہ میں نہ رہا۔ایک حدیث میں ہے اور اگر حدیث کو نہیں مانتے تو آپ کے والد نے کہا ہے اسے تو مان لیں۔یہ میرے ہاتھ میں ان کی کتاب ہے آپ کے والد کی ، وہ کہتے ہیں کہ جو مرزا کو نہیں مانتے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں؟ مرزا ناصر : کفر کفر میں فرق ہے۔ایک کفر وہ ہے جو ملت سے خارج کر دیتا ہے۔ایک وہ کفر ہے جوملت سے خارج نہیں کرتا۔جو کلمہ کا انکار کرے وہ ملت سے خارج ہوتا ہے۔اٹارنی جنرل : اور جو مرزا کی نبوت کا انکار کرتا ہے، وہ ملت سے خارج نہیں ہوتا۔مرزا ناصر : نہیں ہوتا۔اٹارنی جنرل: ایک آپ کی یہ شہادت ہے، ایک آپ کے والد کی منیر کمیشن میں شہادت تھی۔دونوں میں فرق ہے تو کون صحیح ہوگا ؟ مرزا ناصر : منیر کمیشن میں میرے والد نے کہا مگر اور جگہ بھی تو کہا، سب کو دیکھنا ہے۔اٹارنی جنرل: ایک عدالت کے سامنے جو ریکارڈ ، شہادتیں اور دلائل ہوتے ہیں؟ مرزا ناصر: مجھے نہیں معلوم کہ میرے باپ نے کیا کہا، مگر میں ملت سے خارج نہیں مانتا۔اٹارنی جنرل : اور جو مرزا کو نہیں مانتا؟ مرزا ناصر : وہ قابل مواخذہ۔اٹارنی جنرل : ملت اسلامیہ سے نکل گیا ؟ مرزا ناصر : سیاسی معنوں میں نہیں نکلا۔اٹارنی جنرل: حقیقی معنوں میں نکل گیا ؟ مرزا ناصر : جی۔اٹارنی جنرل : صرف جی نہیں ، بلکہ صاف فرمائیں کہ نکل گیا ؟ مرزا ناصر : کہہ تو دیا ہے کہ ایک معنی میں کافر ہے، دوسرے میں مسلمان‘۔(صفحہ ۵۶۔۵۷) اٹارنی جنرل : آپ کے باپ کی کتاب ہے آئینہ صداقت صفحہ ۳۵ ہے۔مسٹر چیئر مین : کیا کہا اس کتاب میں۔