احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں

by Other Authors

Page 12 of 42

احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں — Page 12

(1) پہلاسوال: چارا ہم سوال اللہ وسایا صاحب کی مرتبہ کتاب پارلیمنٹ میں قادیانی شکست میں صفحہ ۳۳ پر ۵ راگست ۱۹۷۴ء کی کارروائی سے آغاز کیا گیا ہے اور اس کے مطابق حضرت امام جماعت پر اس دن جرح کا آغاز ہوا۔سب جانتے ہیں کہ گواہ پر جرح اسکے بیان پر کی جاتی ہے۔جرح سے پہلے حضرت امام جماعت احمدیہ نے کوئی بیان بھی دیا ہوگا اٹارنی جنرل کے بیان اور خودموصوف کی کتاب سے ظاہر ہے کہ تحریری بیان بھی داخل کیا گیا اور اسے حلف لینے کے بعد پڑھ کر سنایا بھی گیا۔اس بیان کا ایک دوسری جگہ اٹارنی جنرل نے محضر نامے کے طور پر بھی ذکر کیا ہے۔قانون شہادت کے مطابق گواہ کا بنیادی اظہار اور جرح دونوں مل کر گواہ کی شہادت کہلاتے ہیں ، لہذا اللہ وسایا موصوف سے ہمارا پہلا سوال تو یہ ہے کہ جرح کی کارروائی تحریر کرنے سے پہلے انہوں نے وہ ابتدائی، بنیادی مفصل بیان کیوں درج نہ کیا ؟ موصوف کے وہ بزرگان اور قائدین جنہوں نے اتنی محنت سے بقول اللہ وسایا صاحب زبانی اور تحریری یادداشتیں تیار کر رکھی تھیں، کیا ان کے پاس یہ محضرنامہ موجود نہیں تھا ؟ اس محضر نامے کی نقول تو تمام ممبران اسمبلی کو مہیا کی گئی تھیں۔اس کی تیاری کے بارے میں تو وہ مشکلات اسمبلی کی طرف سے درپیش نہیں تھیں جن کا اللہ وسایا کی شائع کردہ کارروائی کے دوران جگہ جگہ ذکر ملتا ہے۔پوری کا رروائی میں کسی ایک ممبر نے بھی یہ سوال نہیں اُٹھایا کہ انہیں جماعت احمدیہ کے محضر نامے کی نقل نہیں ملی۔تو پھر کیا وجہ ہے کہ اللہ وسایا نے اس بنیادی مفصل بیان کو چھوڑ کر جرح سے اپنی کتاب کا آغاز کیا ؟ کیا ان کے بزرگان نے یہ محضر نامہ ان سے چھپا لیا اور ان کو اسکی ہوا تک نہیں لگنے دی۔یا پھر یہ کارستانی اللہ وسایا کی اپنی ہے کہ وہ اس کو گول کر گئے اور خود یوں نقاب پوش ہو گئے کہ گویا یہ بھی اجمال ہی کا حصہ ہے۔پورے بیان کو حذف کر دینا تو اجمال نہیں ہوتا۔تو پھر آخرکیوں یہ کارروائی کی گئی ؟ کیا صرف اس لئے کہ کہیں جماعت احمدیہ کا موقف ان کے اپنے الفاظ میں، عوام کے پاس نہ پہنچے اور کوئی بالغ نظر منصف مزاج قاری ان سے یہ نہ پوچھ بیٹھے کہ کارروائی کیا تھی اور نتیجہ کیا نکلا؟ یا اس لئے کہ اپنے بیان میں حضرت امام جماعت احمدیہ نے واضح طور پر ایسے سوال اٹھائے تھے اور نمایاں طور پر تنقیحات وضع کر کے اسمبلی کو توجہ دلائی تھی کہ کوئی بھی فیصلہ ان تنقیحات کے جواب کے بغیر ممکن نہیں۔یا اس لئے کہ اللہ وسایا صاحب میں قوم کو یہ بتانے کا حوصلہ نہیں کہ ان حضرات کے پاس ان تنقیحات کا کوئی جواب نہیں اور انہوں نے ان تنقیحات کو نظر انداز کر کے خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے۔دوسراسوال: خصوصی کمیٹی کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ :۔دینِ اسلام کے اندر ایسے شخص کی حیثیت یا حقیقت پر بحث کرنا جو حضرت محمد ﷺ کے آخری نبی ہونے پر ایمان نہ رکھتا ہو عقیدہ ختم نبوت اور شان خاتم النبین ہے کے بارہ میں امام جماعت احمدیہ نے اپنے مفصل اور مدلل تحریری بیان میں کہا تھا کہ :۔جماعت احمدیہ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ وہ اصولی اور بنیادی طور پر ختم نبوت کی ان تمام تفاسیر کو بدل و جان تسلیم کرتی ہے جن سے آنحضرت ﷺ کی ارفع اور منفرد شان دوبالا ہوتی ہے اور جو بزرگان اُمت نے گزشتہ تیرہ صدیوں میں وقتاً فوقتاً بیان فرمائیں۔اور اسکے ساتھ ضمیمہ کے طور پر تیرہ صدیوں کے بزرگانِ امت کے اسماء گرامی اور حوالہ جات بھی پیش کئے تھے۔اللہ وسایا صاحب سے ہمارا دوسرا سوال یہ ہے کہ موصوف کی شائع کردہ کا رروائی میں کوئی ایک سوال بھی ایسا کیوں نہیں جس میں اس بارے میں جرح کی گئی ہو۔اگر اس بیان پر جرح نہیں کی گئی تو قانون کے مطابق سمجھا جائے گا کہ بیان تسلیم کر لیا گیا ہے۔کیا اس لئے کہ جماعت احمدیہ کی طرف سے پیش کردہ حوالہ جات جن بزرگان اور صلحائے امت سے منسوب تھے وہ تمام نام اتنے معزز اور محترم ہیں کہ ان کے فرمودات رد نہیں کئے جاسکتے۔اور مولوی حضرات میں سے کسی کی یہ مجال نہیں کہ ان بزرگوں