احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں

by Other Authors

Page 33 of 42

احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں — Page 33

(۴) ڈسٹرکٹ مسلم لیگ، لدھیانہ۔(۵)۔ینگ مین مسلم ایسوسی ایشن سٹی اینڈ ڈسٹرکٹ مسلم لیگ ، جالندھر۔(1) انجمن مغلیاں لوہاراں ، تر کھاناں پنجاب۔(۷)۔۔۔۔انجمن بھٹی راجپوتاں پنجاب۔(۸) انجمن رائیاں جالندھر تحصیل جالندھر۔(9)۔۔۔مسلم راجپوت ایسوسی ایشن۔(۱۰) مسلم راجپوت کمیٹی تحصیل گڑھ منکر اینڈ نواں شہر۔(۱۱)۔۔۔مسلم لیدر مرچنٹ ایسوسی ایشن۔(۱۲) انجمن مدرسة البنات جالندھر۔(۱۳)۔۔۔۔۔مزنگ منڈی سرکل۔کی طرف سے میمورینڈم داخل کئے گئے تھے اور یہ سارے میمورینڈم مسلم لیگ کی تائید میں تھے۔اسی طرح بہت سی ہندؤ سکھ تنظیموں نے کانگریس کی تائید میں اپنے میمورینڈم داخل کئے۔عیسائیوں اور اینگلو انڈینز کی طرف سے مسلم لیگ کی تائید میں، پاکستان کے حق میں اور کچھ کانگریس کی تائید میں ، ہندوستان کی تائید میں داخل کئے گئے۔اصل بات جو نمایاں طور پر واضح تھی وہ یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کا میمورینڈم دوسری بہت سی مسلم تنظیموں کے ساتھ مسلم لیگ کی تائید میں داخل کیا گیا تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ تقسیم پنجاب کے وقت پارٹیشن پلان کے ساتھ ایک فہرست اور ایک جدول بھی شامل کئے گئے تھے جس میں ۱۹۴۱ ء کی مردم شماری کے مطابق پنجاب میں مسلم اکثریت کے ضلعوں کی تفصیل دی گئی تھی۔گورداسپور کا ضلع جو کہ مسلم اکثریت کا ضلع تھا اسے عارضی اور عبوری طور پر پاکستان میں شامل کیا گیا تھا۔مگر وائسرائے نے اپنی پریس کانفرنس میں ضلع گورداسپور کے بارہ میں یہ اظہار کیا تھا کہ اس ضلع میں مسلمانوں کی اکثریت صرف ۸۶۰ فیصد ہے اس لئے ضلع گورداسپور کے بعض حصے لازماً غیر مسلم اکثریت کے ہوں گے۔چوہدری محمد علی اپنی کتاب Emergence of Pakistan میں لکھتے ہیں: ہے "at his press confrence of June 4 1947 Mount Batten was asked why he had, in the broad cast of previous evening on the June 3 Partition Plan, catagorcally stated that," the ultimate boundries will be settled by a boundary commission and will almost certainly not be identical with those which have been provisionally adopted۔" Mount Batten immidiately replied," I put that in for the simple reason that in the district of Gurdaspur in the Punjab the population is 50۔4 % Muslim, I think and 49۔6 % non muslims۔With a differance of 0۔8 % You will see at once that it is unlikely that the boundary commission will throw the whole of the district into the Muslim majority areas۔" (Ch۔Muhammad Ali, Emergence of Pakistan; Published by Research Society of Pakistan; Page 215) ترجمہ :۔۴ جون ۱۹۴۷ء کی پریس کانفرنس میں ماؤنٹ بیٹن سے یہ پوچھا گیا کہ انہوں نے ۳ جون کے منصوبہ کے بارہ میں خون بہانہ شب کا پنی تقریری تقریر میں کمیشن کے انداے گا نہیں یہ کیوں نہا یہ یقینی ہے کہ حتمی باؤنڈری عبوری باؤنڈری کے ہو بہو مطابق نہیں ہو گی“ ماؤنٹ بیٹن نے جواب دیا ، ”میرے ایسا کرنے کی سیدھی سی وجہ یہ تھی کہ پنجاب کے ضلع گورداسپور میں مسلمان آبادی میرے خیال میں ۴۶۵۰ فیصد۔مد ہے اور غیر مسلم آبادی ۴۹ ۶ فیصد ہے۔آپ با آسانی سمجھ سکتے ہیں کہ یہ بات غیر اغلب ہے کہ صرف ۸۶۰ فیصد کے فرق کی وجہ سے باؤنڈری کمشن پورا ضلع ہی مسلم اکثریت کے حصہ میں ڈال دے۔چونکہ گورداسپور جالندھر اور فیروز پور کے بعض علاقے اس عارضی اور عبوری سرحد (Notional Boundary) کے قریب تھے۔اس لئے اس عبوری سرحد کے قریب قریب واقع دونوں طرف کے علاقے گویا فریقین کے درمیان زیر بحث تھے۔کانگریس لاہور اور منٹگمری کے ضلعوں میں سے بھی کچھ علاقوں کا مطالبہ کر رہی تھی اور مسلم لیگ امرتسر اور فیروز پور کے علاقوں کا مطالبہ کر رہی تھی۔لہذا ان علاقوں کے لوگوں کی طرف سے اس امر کا اظہار کہ کانگریس اور مسلم لیگ کے مطالبات کے قطع نظریہ سوال کہ ان علاقوں کے لوگ کسی طرف شامل ہونے کے خواہش مند ہیں بھی اہمیت اختیار کر گیا تھا۔چنانچہ اس علاقے کی بعض عیسائی تنظیموں نے پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کے بارے میں میمورنڈم داخل کئے۔باؤنڈری کمیشن کے Terms OfReference یہ تھے:-