احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں — Page 11
میں مرزا ناصر آیا تو قمیض پہنے ہوئے اور شلوار دوشیروانی میں ملبوس بڑی پگڑی طرہ لگائے ہوئے تھا اور سفید داڑھی تھی۔تو ممبران نے دیکھ کر کہا کیا یہ شکل کا فرکی ہے؟ اور جب وہ بیان پڑھتا تھا تو قرآن مجید کی آیتیں پڑھتا تھا اور جب حضور اکرم ﷺ کا نام لیتا تو درود شریف بھی پڑھتا تھا اور تم اسے کافر کہتے ہو، اور دشمن کہتے ہو اور پروپیگنڈے کے لحاظ سے یہ بات مشہور ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہے وہ مسلمان ہے تو جب وہ مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو تمہیں کیا حق ہے کہ آپ ان کو کا فرکہیں ؟ تو ہم اللہ سے دست بدعا تھے کہ اے مقلب القلوب ان دلوں کو پھیر دے اگر تم نے بھی ہماری امداد نہ فرمائی تو یہ مسئلہ قیامت تک اسی مرحلہ میں رہ جائے گا اور ملنہیں ہوگا حتی کے میں اتنا پریشان تھا کہ بعض اوقات مجھے رات کے تین یا چار بجے تک نیند نہیں آتی تھی۔(ہفت روزه لولاک لائلپور ۲۸/ دسمبر ۱۹۷۵ء صفحه ۱۸۔۱۷) (۵) پانچویں بات جو اس کا رروائی سے ظاہر ہے وہ یہ ہے کہ مولانا مفتی محمود صاحب کی پریشانی کا حل یہ نکالا گیا کہ اصل مسئلہ کو زیر بحث لانے کی بجائے ایسے سوالات چنے گئے جو ہمیشہ سے عامۃ الناس کو اشتعال دلانے کی خاطر مولوی حضرات بیان کیا کرتے ہیں۔ایک متفقہ آئین میں ایک نہائت متنازعہ اور ایسی ترمیم زیر غور تھی جس کے نتیجہ میں مداخلت فی الدین کے ایسے نازک مسائل زیر بحث آنے تھے جس کی نظیر قوموں کی آئینی تاریخ میں ملنی مشکل ہے۔خیال تو یہ تھا کہ بڑے سنجیدہ ماحول میں گمبیر مسائل زیر بحث آئیں گے علمی مباحث ہوں گے قرآن وحدیث سے دلائل کا ایک انبار علماء کی طرف سے لگا دیا جائے گا مگر ساری کارروائی میں تیرہ روز کی جرح اور اٹارنی جنرل کی بحث میں جو سوال اٹھائے گئے ، وہ کیا تھے؟ چند پیٹے ہوئے اعتراضات یعنی:۔ا۔احمدی مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں۔۲- احمدی مسلمانوں کا جنازہ نہیں پڑھتے۔۳۔احمدی مسلمانوں میں رشتہ ناطہ نہیں کرتے۔۴۔بانی جماعت احمدیہ کی بعض پیشگوئیاں پوری نہیں ہوئیں۔۵۔احمدیوں کا تصور جہا د عام مسلمانوں سے مختلف ہے۔۶۔احمدیوں نے باؤنڈری کمیشن میں علیحدہ میمورینڈم کیوں داخل کیا۔وغیرہ وغیرہ۔کوئی پوچھے کیا یہ آئینی اہمیت کے سوال تھے ؟ یہ سوالات بار بار فریقین کی کتب میں زیر بحث نہیں آچکے تھے ؟ کیا اسمبلی کی خصوصی کمیٹی اسی غرض کے لئے قائم کی گئی تھی ؟ اگر ایسا تھا تو ان امور کا ذکر وزیر قانون کی تحریک میں کیوں نہیں تھا ؟ اور اگر یہی بنیاد تھی تو ترمیم یوں ہونی چاہئے تھی کہ :۔جو شخص کسی مسلمان کو کافر کہے یا کسی مسلمان کا جنازہ نہ پڑھے یا رشتہ نہ دے یا تحریک پاکستان میں مسلم لیگ کی مخالفت کر چکا ہو وہ آئین وقانون کی اغراض کے لئے غیر مسلم ہوگا۔“ بہر حال اللہ وسایا کی کتاب جو کہانی سنا رہی ہے اس کے مطابق تو یہی سوالات ایک سٹینڈ نگ کمیٹی کے ذریعے ترتیب پا کر اٹارنی جنرل کو مہیا کر دئے گئے۔اٹارنی جنرل بے چارے کیا کرتے انہی علماء پر بھروسہ کرتے ہوئے وہی سوال پوچھتے رہے۔جو لوگ ان معاملات میں دلچسپی لیتے ہیں اور انہیں ان کی حقیقت معلوم ہے وہ انہیں کوئی اہمیت نہیں دیتے۔اللہ وسایا موصوف نے امام جماعت احمدیہ کے جوابات کو قطع و برید یا بقول ان کے اجمال کی آڑ میں کتنا بھی مسخ کر دیا ہو جب سوال سامنے آ گیا تو جواب کے لئے اگر اسمبلی کی کارروائی مہیانہ بھی ہو تو جماعت احمدیہ کے لٹریچر سے رجوع کیا جاسکتا ہے اور ایسا کرنے میں کوئی امر مانع نہیں۔ہم اصلاح احوال اور ازالہ اشتعال انگیزی کی خاطر ان میں سے چند سوالات کے جوابات اختصار کے ساتھ پیش کر رہے ہیں۔جوابات کا اکثر حصہ اللہ وسایا کی کتاب ہی کے حوالہ سے ہے اور کچھ ان کی کتاب میں درج حوالوں کے تعلق میں جماعت احمدیہ کے لٹریچر اور دیگر مستند تاریخی کتب پر مبنی ہے۔مگر ان اعتراضات اور جزئیات کی طرف توجہ کرنے سے پہلے چند بنیادی سوال ہمیں اپنی طرف کھینچ رہے ہیں کچھ ان کا ذکر ہو جائے۔