احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں

by Other Authors

Page 8 of 42

احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں — Page 8

یا نہ ہوا اور دوسری آئینی ترمیم میں چند بنیادی خامیاں رہ گئیں جن پر اب صدائے احتجاج بلند کی جارہی ہے“۔(اردو ڈائجسٹ لاہور۔دسمبرء ۱۹۷۵ء صفحه۵۷) تحریک ختم نبوت والوں نے جشن تو خوب منایا اور دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ جماعت احمد یہ عقائد کے اعتبار سے مسلمان نہیں اور اس بات پر گویا قومی اسمبلی نے مہر ثبت کر دی ہے۔مگر مجلس تحفظ ختم نبوت اور مولوی حضرات کو اپنی کامیابی پر دل سے یقین بھی نہیں آیا اور وہ ہمیشہ ہی اپنے دل کو تسلی دلانے کیلئے کوئی نہ کوئی راہ نکالنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔پہلے تو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ایک صاحب، فقیر اللہ وسایا کی مرتبہ ایک کتاب ” قومی اسمبلی میں قادیانی مقدمہ کے نام سے شائع کی گئی ، جسے حضوری باغ روڈ ملتان سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے شائع کیا، اور اب اسی کا رروائی کو پارلیمنٹ میں قادیانی شکست کے نام سے شائع کر دیا ہے۔( مطبوعه : الفضل انٹر نیشنل ۲۹ / مارچ ۲۰۰۲ تا ۵ را پریل ۲۰۰۲) (دوسری قسط) (۴) مجلس تحفظ ختم نبوت مولوی اللہ وسایا کی مرتب کردہ اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے شائع کردہ کتاب کے پایۂ استناد اور پس پردہ محرکات کو صحیح معنوں میں سمجھنے کے لئے مجلس تحفظ ختم نبوت کے حقیقی خدوخال کا علم ضروری ہے۔عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت در اصل مجلس احرار کا دوسرا جنم ہے۔مجلس احرار ایک سیاسی جماعت تھی اور تحریک پاکستان کے دوران اس کا گھناؤنا کردار کسی ذی علم پاکستانی سے مخفی نہیں۔تحریک پاکستان اور جد وجہد آزادی کے دوران مجلس احرار نے کانگرس کی بھر پور حمائت کی اور مسلم لیگ، قائد اعظم اور پاکستان کے خلاف جی بھر کے زہر اگلا۔سیاسی میدان میں مسلمانوں کے مفادات کے خلاف بھر پور کردار ادا کرنے کے بعد مجلس احرار کے لئے پاکستان میں کوئی جگہ نہیں تھی اور سیاسی طور پر پذیرائی کا کوئی امکان نہیں تھا۔چنانچہ مجلس احرار نے مذہب کا لبادہ اوڑھ لیا اور خود کو مجلس تحفظ ختم نبوت کا نام دے دیا۔اس بات کی تاریخی اور دستاویزی شہادت خود ان کی کی شائع کردہ کتاب ”تحریک ختم نبوت جلد دوم کے باب چہارم میں مہیا کر دی گئی ہے۔(صفحه (۳۸۳ صفحہ ۳۸۷ میں ۴ ستمبر ۱۹۵۴ء کے مرکزی شوری کے اجلاس کی کارروائی درج ہے جس میں یہ فقرہ تحریر ہے۔ہدایات نمبر 1۔مجلس احرار نے جب سیاسیات سے علیحدگی اختیار کی تو مقصد الیکشن سے علیحدگی تھا۔لیکن ملکی اور شہری حقوق سے دستبرداری یا حکومت پر جائز نکتہ چینی سے دستبرداری مراد نہ تھی۔اب مجلس تحفظ ختم نبوت کی بنیاد یہ ہے کہ یہ جماعت صرف تبلیغی جماعت ہے اس کو دینی باتیں صرف وعظ و پند کے طور پر کہنی ہوں گی۔تنقید اور نکتہ چینی کا رنگ نہ ہوگا۔جناب شیخ کا نقش قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی مندرجہ بالا ہدایت فی الواقعہ ایک ہدایت تھی یا ایک پردہ تھا اور مجلس تحفظ ختم نبوت کہاں تک اپنی اس ہدایت پر قائم رہ سکی یہ تاریخ کا حصہ ہے اور اس پر کسی تبصرہ کی ضرورت نہیں۔تاریخی ریکارڈ کے مطابق ۱۳ دسمبر ۱۹۵۴ء کو امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے امیر اول قرار پائے اور پھر تادم حیات اس کے امیر رہے۔ان کے بعد دوسرے امیر قاضی حسین احمد شجاع آبادی ہوئے وہ بھی مجلس احرار کے رکن تھے۔تیسرے امیر مولانا محمد علی جالندھری، چوتھے امیر لال حسین اختر، پانچویں مولانا یوسف بنوری مقرر ہوئے۔مجلس کی اس ساخت سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ مجلس تحفظ ختم نبوت، مجلس احرار ہی کا تسلسل ہے۔اور مجلس احرار کے بارہ میں منیر انکوائری رپورٹ میں عدالت نے لکھا: احرار کے رویہ کے متعلق ہم نرم الفاظ استعمال کرنے سے قاصر ہیں۔ان کا طرز عمل بطورِ خاص مکر وہ اور قابل نفرین تھا۔اس لئے کہ انہوں نے ایک دنیاوی مقصد کے لئے ایک مذہبی مسئلے کو استعمال کر کے اس مسئلہ کی توہین کی۔(رپورٹ تحقیقاتی عدالت ، صفحه ۲۷۷)