احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں — Page 41
بغیر یونیفارم کے تو کسی کو کلمہ نہیں مٹانے دیں گے یہ تو سر دھڑ کی بازی لگائے بیٹھے ہیں، لیکن اگر حکومت مٹائے تو احمدی کہتے ہیں کہ ہم مزاحمت نہیں کریں گے۔اس صورت میں اللہ جانے اور حکومت۔جب وہ مجسٹریٹ اتنی بات کہہ رہا تھا، تو ایس ایچ او نے کہا کہ جناب یہ باتیں تو بعد میں طے ہونگی پہلے یہ بتائیں کہ مٹائے گا کون؟ اس نے کہا کہ لاز ما تم ہی مٹاؤ گے تمہیں اسی لئے ساتھ لایا ہوں۔اس پر ایس ایچ او نے کہا یہ میری بیٹی ہے اور یہ میرا STAR ہے جہاں مرضی لے جائیں مگر خدا کی قسم میں کلمہ نہیں مٹاؤں گا اور نہ ہی میری فورس کا کوئی آدمی کلمہ مٹائے گا۔اس لئے جب تک یہ فیصلہ نہ کر لیں کہ کلمہ کون مٹائے گا اس وقت تک یہ ساری باتیں فضول ہیں کہ کس طرح مٹایا جائے۔اس قسم کا ایک واقعہ نہیں ہوا، پاکستان کے طول و عرض میں ایسے کئی واقعات رونما ہورہے ہیں کہ پولیس جو پاکستان میں سب سے بد نام انتظامیہ مشہور ہے اور جسے ظالم سفاک بے دین اور بے غیرت کہا جاتا ہے اور ہر قسم کے گندے نام دیئے جاتے ہیں کلمہ کی محبت ایسی عظیم ہے، کلمہ کی طاقت اتنی عجیب ہے کہ ایک جگہ نہیں متعدد جگہوں سے بار ہا یہ اطلاعات ملی ہیں کہ پولیس نے کلمہ مثانے سے صاف انکار کر دیا ہے اور یہ کہا کہ کوئی اور آدمی پکڑو جو کلمہ مٹائے ، ہم اس کے لئے تیار نہیں۔اسی طرح بعض مجسٹریٹس کے متعلق اطلاعیں مل رہی ہیں کہ وہ بڑے ہی مغموم حال میں سر جھکائے ہوئے آئے ، معذرتیں کیں اور عرض کیا کہ ہم تو مجبور ہیں ، ہم حکومت کے کارندے ہیں، ہماری خاطر کلمہ مٹادو۔احمدیوں نے کہا کہ ہم تو دنیا کی کسی حکومت کی خاطر کلمہ مثانے کو تیار نہیں ہیں، اگر تم جبر امٹانا چاہتے ہو تو مٹاؤ۔پھر مجسٹریٹ نے کہا اچھا سیڑھی لاؤ تو جواب میں کہا گیا کہ ہمارے ہاتھ سیڑھی بھی لے کر نہیں آئیں گے۔پھر انہوں نے کسی اور سے سیڑھی منگوائی اور ایک آدمی کلمہ مٹانے کے لئے اوپر چڑھایا۔اس وقت احمد یہ مسجد سے ایسی درد ناک چھینیں بلند ہوئیں کہ یوں لگتا تھا کہ جیسے ان کا سب کچھ برباد ہو چکا ہے اور کوئی بھی زندہ نہیں رہا۔اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ خود مجسٹریٹ کی بھی روتے روتے ہچکیاں بندھ گئیں اور ابھی کلمہ پر ایک ہی ہتھوڑی پڑی تھی کہ مجسٹریٹ نے آواز دی کہ واپس آجاؤ ہم یہ کلمہ نہیں منائیں گے۔حکومت جو چاہتی ہے ہم سے سلوک کرے، ہم اس کے لئے تیار ہیں۔(زهق الباطل صفحه ۷۸ ۱ تا ۱۷۹) ایک اور انتہائی دردناک واقعہ جو ہمارے علم میں آیا وہ اس سے بھی زیادہ ظالمانہ ہے کہ ایک موقعہ پر جب پولیس نے بھی کلمہ مثانے سے انکار کر دیا اور گاؤں کے سب مسلمانوں نے بھی صاف انکار کر دیا کہ ہم ہرگز یہ کلمہ نہیں مٹائیں گے تو اس بد بخت مجسٹریٹ نے سوچا کہ میں ایک عیسائی کو پکڑتا ہوں کہ وہ کلمہ منائے۔چنانچہ اس نے ایک عیسائی کو کہا کہ وہ کلمہ منائے۔اس نے کہا کہ میں اپنے پادری صاحب سے پوچھ لوں۔پادری نے یہ فتویٰ دیا کہ دیکھو! اللہ سے تو ہمیں کوئی دشمنی نہیں ہے خدا کی وحدانیت کا تو ہم بھی اقرار کرتے ہیں اور وہ بھی۔اس لئے کسی عیسائی کا ہاتھ لا اله الا اللہ کو نہیں مٹائے گا ہاں جاؤ اور (نعوذ باللہ من ذلک ) محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے نام کو مٹا دو۔اس بد بخت اور لعنتی نے یہ گوارہ کر لیا کہ ہمارے آقا و مولیٰ محمد مصطفیٰ کا نام ایک عیسائی کے ہاتھ سے مٹوادے“۔(زهق الباطل صفحه ۱۸۰۔۱۸۱) امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا طاہر احمد ایدہ اللہ نے متنبہ کیا:۔مگر میں ان کو متنبہ کرتا ہوں کہ ہمارے خدا کو جس طرح اپنے نام کی غیرت ہے اسی طرح ہمارے آقا و مولیٰ محمد مصطفیٰ کے نام کی بھی غیرت ہے۔محمد مصطفی ﷺے خود مٹنے کے لئے تیار ہو گئے تھے مگر خدا کے نام کو مٹنے نہیں دیتے تھے۔ہمارا خدا نہ خود مٹ سکتا ہے اور نہ محمد کے پاک نام کو کبھی مٹنے دے گا۔اس لئے اے اہل پاکستان ! میں تمہیں خبر دارا اور متنبہ کرتا ہوں کہ اگر تم میں کوئی غیرت اور حیا باقی ہے تو آؤ اور اس پاک تحریک میں ہمارے ساتھ شامل ہو جاؤ۔کلمہ، اس کی عزت اور اس کی حرمت کو قائم کرو۔اور فرمایا:۔پس اے اہلِ پاکستان !اگر تم اپنی بقا چاہتے ہو تو اپنی جان، اپنی روح ، اپنے کلمہ کی حفاظت کرو۔میں تمہیں متنبہ کرتا ہوں کہ اس کلمہ میں جس طرح بنانے کی طاقت ہے اس طرح مثانے کی بھی طاقت موجود ہے۔یہ جوڑنے والا کلمہ بھی ہے اور توڑنے والا بھی مگر ان ہاتھوں کو توڑنے والا ہے جو اس کی طرف توڑنے کے لئے اٹھیں۔اللہ تمہیں عقل دے اور تمہیں ہدایت نصیب ہو۔( زهق الباطل صفحه ۱۸۱ ، خطبه جمعه فرموده یکم مارچ ۱۹۸۵ مسجد فضل لندن) آخر میں ہم اہل وطن اور دانشورانِ قوم سے صرف یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ ایک کھلی کھلی نا انصافی