احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں

by Other Authors

Page 40 of 42

احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں — Page 40

پھر اپنی بحث کے آخری حصہ میں اس بات کا اعادہ کیا اور کہا:۔اب میں دستور کے مطابق احمدیوں کی حیثیت کے بارہ میں گزارشات کروں گا، فیصلہ خواہ کچھ بھی ہو، اراکین جو بھی راستہ اختیار کریں یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ وہ پاکستانی ہیں اور شہریت کا پورا پورا حق رکھتے ہیں۔” ذمی یا دوسرے درجہ کے شہری ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔یادرکھئے کہ پاکستان لڑ کر حاصل نہیں کیا گیا بلکہ یہ مصالحت اور رضامندی سے حاصل کیا گیا تھا۔یہ ایک معاہدہ تھا جس کی بنیاد دو قومی نظریہ پر تھی۔ہندوستان میں ایک مسلمان قوم تھی اور دوسری ہند و قوم ، اس کے علاوہ چھوٹے چھوٹے ذیلی قومی گروہ تھے۔پاکستان کی تخلیق کے ساتھ مسلمان قوم بھی تقسیم ہوگئی اور اس کا ایک حصہ ہندوستان میں رہ گیا۔ہم ان کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑ سکتے تھے کیونکہ پاکستان کو معرض وجود میں لانے کے لئے قربانیاں دی تھیں۔چنانچہ یہ قرار پایا کہ ان کے شہری اور سیاسی حقوق ہندوؤں کے حقوق کے برابر ہوں گے۔اسی طرح ہم پاکستان میں ہندؤوں اور دیگر اقلیتوں کو مساوی شہری اور سیاسی حقوق دیں گے۔اس بات کا ذکر آپ کو چوہدری محمد علی کی لکھی ہوئی کتاب، Emergence of Pakistan( ایمر جینس آف پاکستان) میں ملے گا۔پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس ۱۱ اگست ۱۹۴۷ء کو ہوا تھا جسے قائد اعظم نے خطاب کیا تھا۔وہ ایک نہائت مشکل دور تھا۔بے شمار مسلمان شہید ہو گئے تھے۔قربانیاں دی گئی تھیں۔اس معاہدہ کے باوجود ہندو مسلمانوں کو ذبح کر رہے تھے جس کا قدرتی طور پر پاکستان میں رد عمل ہوا۔قائد اعظم نے مسلمانوں سے پر امن رہنے کی پر سوز اپیل کی۔وہ ہمیں اپنے وعدے کا احساس دلا رہے تھے۔وہ حکومتِ پاکستان کو اقلیتوں کے مفادات کے تحفظ کی یاد دہانی کرارہے تھے۔انہوں نے فرمایا تھا:۔” آپ اپنے مندروں میں جانے کو آزاد ہیں، اپنی مسجد وں میں جانے کو آزاد ہیں۔“ اور مزید فرمایا:۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہندو، ہندو نہیں رہے گا اور مسلمان ، مسلمان نہیں رہے گا۔مذہبی طور پر نہیں بلکہ سیاسی طور پر یعنی یہ کہ سب کے لئے سیاسی آزادی برابر ہوگی“۔(صفحه ۳۱۷۔۳۱۶) اس طرح آئینی ترمیم سے قبل عوام اور عالمی رائے عامہ کو اطمینان دلانے کے لئے اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ احمدیوں کے شہری حقوق محفوظ ہوں گے اور ان تحفظات کے ساتھ آئینی ترمیم منظور کی جا رہی ہے۔آئین کی ترمیم کے ذریعہ مذہب میں دخل اندازی کو سنجیدہ طبقہ نے پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا مگر پھر بھی یہ سمجھ کر خاموشی اختیار کر لی کہ شائد روز روز کے جھگڑوں، تشدد پسند مولویوں اور ان کے نت نئے مطالبوں سے نجات مل جائے گی۔لیکن احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی آئینی ترمیم کی سیاہی بھی ابھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ احمدیوں کے حقوق سلب کر لینے کے مطالبات شروع ہو گئے اور بالآخر ۱۹۸۴ء میں ایک فوجی آمر نے اپنے ناجائز اقتدار کو سہارا دینے کے لئے ایک ایسا قانون نافذ کر دیا جس سے مذہبی اذیت پسندوں کی مراد بر آئی اور احمدیوں کے لئے اپنی عبادت گاہوں کو مسجد کے نام سے پکارنا اور نماز کے لئے اذان دینا، قابل تعزیر جرم ٹھہرا اور تین سال قید با مشقت اور غیر معین جرمانہ کی سزا مقرر کر دی گئی۔ان کی تبلیغ پر پابندی عائد کر دی گئی اور قانون کی دفعات میں ایسی راہیں کھول دی گئیں کہ احمدیوں کے لئے اپنے مذہبی اعتقاد اور ضمیر کے مطابق نہ صرف خدا کے حضور عبادات بجالا نا محال کر دیا گیا بلکہ ان کی روز مرہ زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی۔اسلام علیکم کہنے پر ماہ رمضان میں اپنے ہی گھر میں اعتکاف بیٹھنے پر، عزیزوں دوستوں کو افطار کے لیے مدعو کر نے پر ، دعوتی کارڈ پر بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنے پر مقدمات قائم ہوئے اور سزائیں دی گئیں۔ابھی زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ یہ مطالبے شروع ہو گئے کہ تین سال کی سزا نا کافی ہے۔نت نئی صورتیں احمدیوں کو اذیت پہنچانے کی پیدا کی جانے لگیں۔اور تو اور ربوہ کا نام بھی تبدیل کرنے کے مطالبے ہونے لگے اور بالآ خر نام تبدیل کر دیا گیا۔تفصیلات بیان کرنے کا موقع نہیں مگر امر واقعہ یہ ہے کہ ہر ممکن حملہ احمدیوں کی مذہبی آزادی پر کیا گیا۔ان کی تبلیغ پر پابندی لگا کر یکطرفہ زہریلا پر ا پیکینیڈا ان کے خلاف کیا جا رہا ہے۔احمدیوں کے سالانہ جلسہ اور معمول کے اجتماعات پر سرکاری احکام کے تحت پابندیاں عائد کی گئیں۔ان کے جرائد ورسائل پر لاتعداد مقدمات قائم کئے گئے۔غرضیکہ احمدیوں کے لئے نہ مذہبی آزادی میسر رہی، نہ آزادی اظہار، نہ آزادی اجتماع۔اس ارضِ پاک میں کلمہ کلیہ مثانے کی مہم بھی چلائی گئی اور اس غرض کے لئے انتظامیہ اور پولیس کو استعمال کیا گیا۔اہلِ وطن اپنے احمدی ہم وطنوں کی مذہبی آزادی سلب ہوتے ہوئے خاموشی سے دیکھتے رہے۔مگر ایسا بھی نہیں تھا کہ احساس بالکل ہی اٹھ گیا ہوتا۔ایسا بھی ہوا کہ ایک موقعہ پر ایک مجسٹریٹ نے اپنے ساتھ آئی ہوئی پولیس فورس کی طرف دیکھا اور کہا کہ یہ (احمدی )