احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں — Page 39
گئے ہیں اور ان کو کان وکان خبر نہیں ہوئی۔کیونکہ یہ سب بزرگان آخری نبی ہونے کو کسی نہ کسی رنگ میں مشروط مانتے ہیں۔شرط کی نوعیت میں اختلاف ہے مشروط ہونے میں اختلاف نہیں۔ا۔مولانا سید محمد قاسم نانوتوی۔یہ آنحضرت ﷺ کو شرعی نبی ہونے کے لحاظ سے آخری نبی مانتے ہیں اور آخری نبی ہونا تشریع سے مشروط ہے۔ان کے نزدیک حضور زمانے کے لحاظ سے آخری نہیں، مقام ومرتبہ کے لحاظ سے آخری ہیں۔غیر مشروط بہر حال نہیں۔۲۔مولانا مفتی محمود۔کیونکہ وہ بانی دیو بند سید قاسم نانوتوی کے ہم مسلک ہیں۔۳۔مولانا سید عبدالحی فرنگی محلی۔۴۔مولانا شاہ احمد نورانی، کیونکہ وہ بھی غیر مشروط آخری نبی نہیں مانتے۔ملاحظہ ہو اللہ وسایا کی کتاب میں مولانا شاہ احمد نورانی کہتے ہیں۔جناب خاتم النبیین کا معانی ای لاينبأ احد بعده واما عيسى عليه السلام ممن نبی قبله حضور علیہ السلام کے بعد کوئی شخص نبی نہیں بنایا جائے گا اور مگر حضرت عیسی علیہ السلام وہ نبی ہیں جو حضور علیہ السلام سے پہلے نبی بنائے جاچکے۔“ (صفحه ۱۲۹) گویا مولانا شاہ احمد نورانی اس شرط کے ساتھ حضور ﷺ کو آخری نبی مانتے ہیں کہ جسے آپ ﷺ سے پہلے نبوت مل چکی وہ آپ ﷺ کے بعد آ سکتا ہے۔یعنی آپ کی خاتمیت زمانے سے مشروط نہیں ، بعثت سے مشروط ہے۔جو ترمیم منظور کی گئی اس کی رو سے جو شخص کسی مصلح کا ظہور بھی تسلیم کرے، غیر مسلم ٹھہرا دیا گیا ہے جبکہ علامہ اقبال اس بات کے قائل ہیں کہ :۔بنی نوع انسان میں جب تک روحانیت کی صلاحیت قائم ہے، ایسے حضرات مثالی زندگی پیش کر کے لوگوں کی رہنمائی کے لیئے تمام اقوام اور تمام ممالک میں پیدا ہوتے رہیں گے۔اگر کوئی شخص اس کے خلاف رائے رکھتا ہے تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ اس نے بشری وقوعات سے روگردانی کی۔“ تو گویا علامہ اقبال بھی غیر مسلم ٹھہرے۔اٹارنی جنرل کا سارا استدلال اقبال کے حوالہ سے تھا وہ تو باطل ہو گیا اور قرآن و حدیث اور آئمہ سلف کے اقوال علماء نے پیش نہ کئے۔جماعت احمدیہ نے پیش کئے تو ان پر جرح نہ کی گئی۔یہ خصوصی کمیٹی کی کارروائی کی تصویر ہے جو اللہ وسایا کی کتاب سے ابھرتی ہے۔علماء حضرات کی موجودگی میں کھلی آنکھوں اور سنتے کانوں ان کی رہبری میں یہ ترمیم منظور ہوئی اور یوں سے رہروی میں پرده رہبر کھلا (۱۲) اے اہلِ وطن ! پاکستان کی قومی اسمبلی نے مسلمان کی تعریف تو متعین نہ کی مگر آئین میں دوسری ترمیم کے ذریعہ احمد یوں کو آئین وقانون کی اغراض سے غیر مسلم قرار دے دیا۔احمدیوں کے لئے یہ صورت کتنی بھی ناگوار کیوں نہ ہو، مگر قانونی پوزیشن یہی ہے ، کہ پاکستان کے آئین کی رو سے احمدی غیر مسلم ٹھہرا دیئے گئے ہیں۔احمدی حضرات اس صورت حال کو تبدیل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اور وہ اس بات پر راضی ہیں کہ وہ خدا کے حضور مسلمان ٹھہریں اور روز حشر آنحضرت ﷺ کی امت میں ان کا شمار ہو، آنحضرت ﷺ کی شفاعت ان کو حاصل ہو اور حضور ﷺ کا دامن انہیں میسر رہے۔ان کی اس خواہش کو ان سے چھینا نہیں جا سکتا۔اپوزیشن کا ریزولیوشن اور وزیر قانون کی تحریک، جو ہماری اس کتاب کے پہلے باب میں پس منظر کے عنوان کے تحت درج کر دی گئی ہے، ان کا جائزہ لیتے ہوئے اٹارنی جنرل نے اپنی بحث کے دوران یہ کہا کہ:۔لیکن میرا فرض ہے کہ میں معزز اراکین کی توجہ اس امر کی طرف دلاؤں کہ اگر آپ شہری آبادی کے کسی حصہ کو ایک الگ مذہبی جماعت قرار دیتے ہیں، تو پھر نہ صرف ملک کا آئین بلکہ آپ کا مذہب تقاضا کرتا ہے کہ آپ ان کے حقوق کی حفاظت کریں۔ان کو اپنے مذہب کے پر چار اور عمل کا حق دیں۔(صفحہ ۲۲۱)