احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں

by Other Authors

Page 38 of 42

احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں — Page 38

طور۔ان بشری وقوعات کو اقبال اولیاء کی نفسیاتی واردات قلب کے طور پر بیان کرتے ہیں اور محی الدین ابن عربی اخبار الہی کے جناب اٹارنی جنرل نے تو اقبال کی فلسفیانہ تو جیہات پر انحصار کر لیا جبکہ اقبال خود کہتے ہیں کہ مغربی فلسفہ کا نقطۂ خیال ایک حد تک ان کی طبیعت ثانیہ بن گیا ہے اور وہ دانستہ یا نا دانستہ اسی نقطۂ خیال سے حقائق اسلام کا مطالعہ کرتے ہیں۔اور علماء حضرات نے اٹارنی جنرل کی کوئی راہنمائی نہ کی کہ جماعت احمدیہ نے محی الدین ابن عربی کا جو حوالہ پیش کیا ہے اس کا مفہوم کیا ہے۔غیر مشروط آخری نبی کا تصور جس پر کوئی جرح اور بحث نہیں ہوئی اور جسے متفق علیہ مان کر برآمد کرلیا گیا ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ اسے نہ دیو بندی حضرات کے مسلمہ بزرگوں کی تائید حاصل ہے ، نہ بریلوی حضرات کے بزرگوں کی ، نہ آئمہ سلف کی۔مولانا محمد قاسم نانوتوی کہتے ہیں: عوام کے خیال میں تو رسول اللہ صلعم کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانہ کے بعد اور آپ سب میں آخری نبی ہیں۔مگر اہلِ فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم یا تاتر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں۔پھر مقام مدح میں { ولکن رَّسُوْلَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ » فرمانا اس صورت میں کیونکر صحیح ہوسکتا ہے۔ہاں اگر اس وصف کو اوصاف مدح میں سے نہ کہئے اور اس مقام کو مدح قرار نہ دیجئے تو البتہ خاتمیت با اعتبار تاخر زمانی صحیح ہو سکتی ہے۔مگر میں جانتا ہوں کہ اہلِ اسلام میں سے کسی کو یہ بات گوارا نہ ہوگی۔(تحذیر الناس صفحہ ۳) دیوبندی حضرات میں سے کسی نے نہ جرح میں کوئی سوال اٹھایا ، نہ ہی اٹارنی جنرل کو توجہ دلائی کہ بانی دیو بند تو آ نحضرت کو غیر مشروط طور پر آخری نبی نہیں مانتے۔ان کے نزدیک تو خاتمیت باعتبار زمانہ نہیں۔بریلوی بزرگوں میں سے مولوی ابوالحسنات محمد عبد الحئی صاحب لکھنوی فرنگی محلی اپنی کتاب ” دافع الوسواس کے صفحہ ۱۶ پر اپنامذہب ختم نبوت کے بارہ میں یوں پیش کرتے ہیں:۔بعد آنحضرت ﷺ کے زمانے کے یا زمانے میں آنحضرت ﷺ کے مجرد کسی نبی کا ہونا محال نہیں بلکہ صاحب شرع جدید ہونا البتہ منع ہے۔پھر مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ یہ میرا عقیدہ ہی نہیں بلکہ علمائے اہل سنت بھی اس امر کی تصریح کرتے چلے آئے ہیں۔چنانچہ فرماتے ہیں: علمائے اہلِ سنت بھی اس امر کی تصریح کرتے ہیں کہ آنحضرت کے عصر میں کوئی نبی صاحب شرع جدید نہیں ہوسکتا۔اور نبوت آپ کی عام ہے اور جو نبی آپ کے ہم عصر ہوگا وہ متبع شریعت محمدیہ کا ہوگا۔“ (مجموعه فتاوى مولوى عبدالحئی صاحب جلد اصفحه ۱۴۴) گویا مولوی ابوالحسنات محمد عبد ائی صاحب لکھنوی فرنگی محلی بھی آنحضرت ﷺ کو غیر مشروط آخری نبی نہیں مانتے۔ان کے نزدیک آخری نبی سے مراد یہ ہے کہ آپ آخری شرعی نبی ہیں اور آپ کے بعد صاحب شریع جدید کوئی نہ ہوگا۔مگر اسمبلی میں موجود کسی بریلوی عالم نے جرح میں سوال نہیں اٹھایا ، نہ ہی اٹارنی جنرل کو توجہ دلائی۔یہ تو گویا ماضی قریب کے بزرگان کا ذکر تھا۔پرانے بزرگوں میں سے حضرت امام عبدالوہاب شعرانی کا ایک قول سنئے۔یہ معروف مشہور صوفی بزرگ جن کی کتاب ”الیواقیت والجواہر “ کو ایک خاص سند حاصل ہے اس میں آپ فرماتے ہیں:۔" اعْلَمْ أَنَّ النبوة لم ترتفع مطلقاً بعد مُحَمَّدٍ الله وانما ارتفع نبوة التشريع فقط (اليواقيت والجواهر في بيان عقائد الاكابر۔الامام عبع الوهاب الشعرانی۔الجزء الثانی، صفحه ۳۵ ـ دار المعرفة للطباعة و النشر بيروت لبنان۔الطبعة الثانيه۔١٩٠٠) وو ترجمہ : جان او مطلق نبوت نہیں اٹھی۔صرف تشریعی نبوت منقطع ہوئی ہے۔انکشاف یہ ہوا کہ جو ترمیم پیش ہو کر منظور ہوئی وہ کبھی زیر غور ہی نہیں آئی اور جس صورت میں منظور ہوئی اس پر کسی کا اتفاق نہیں۔" غیر مشروط آخری نبی کا تصور امت میں موجود ہی نہیں۔سب کے سب حضور کے آخری نبی ہونے کو کسی نہ کسی رنگ میں مشروط مانتے ہیں۔کچھ بزرگ شرعی اور غیر شرعی کی بنیاد پر مشروط قرار دیتے ہیں، کچھ زمانے اور مرتبہ کی بنیاد پر اور کچھ پرانے اور نئے کی بنیاد پر۔جو ترمیم کی گئی ہے اس کے مطابق مندرجہ ذیل حضرات اور بزرگان غیر مسلم ٹھہرا دئے