احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں

by Other Authors

Page 37 of 42

احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں — Page 37

” میری مذہبی معلومات کا دائرہ نہائت محدود ہے۔میری عمر زیادہ تر مغربی فلسفہ کے مطالعہ میں گزری ہے اور نقطہ خیال ایک حد تک طبیعت ثانیہ بن گیا ہے۔دانستہ یا نادانستہ میں اسی نقطہ خیال سے حقائق اسلام کا مطالعہ کرتا ہوں“۔(اقبال نامه حصه اول صفحه ۴۷۔۴۶ ناشر شیخ محمد اشرف تاجر کتب کشمیری بازار لاہور) مگر اٹارنی جنرل نے اپنے استدلال کی بنیا دا قبال کے خیالات پر رکھی اور کہا:۔علامہ اقبال فرماتے ہیں:۔فتحیت کے نظریہ سے یہ مطلب نہ اخذ کیا جائے کہ زندگی کے نوشتہ تقدیر کا انجام استدلال کے ہاتھوں جذباتیت کا مکمل انخلاء ہے۔ایسا وقوع پذیر ہونانہ تو ممکن ہی ہے اور نہ پسندیدہ ہے۔کسی بھی نظریہ کی دینی قدر و منزلت اس میں ہے کہ کہاں تک وہ نظریہ عارفانہ واردات کے لئے ایک خود مختارانہ اور نافذ نہ نوعیت کے تحقیقی نقطہ نگاہ کو جنم دینے میں معاون ہے اور ساتھ ہی ساتھ اپنے اندر اس اعتقاد کی تخلیق بھی کرے کہ اگر کوئی مقتدر شخص ان واردات کی وجوہ پراپنے اندر کوئی مافوق الفطرت بنیاد کا داعیہ پاتا ہے تو وہ سمجھ لے کہ اس نوعیت کا داعیہ تاریخ انسانی کے لئے اب ختم ہو چکا ہے۔اس طرح پر یہ اعتقاد ایک نفسیاتی طاقت بن جاتا ہے جو مقتدر شخص کے اختیاری دعوی کو نشو و نما پانے سے روکتا ہے۔ساتھ ہی اس تصور کا نعل یہ ہے کہ انسان کے لئے اس کے واردات قلبیہ کے میدان میں اس کے لئے علم کے نئے مناظر کھول دے۔“ پھر حضرت مرزا غلام احمد کے حوالے سے علامہ اقبال فرماتے ہیں:۔اختتامیہ جملے سے یہ بات بالکل عیاں ہے کہ ولی اور اولیاء حضرات نفسیاتی طریقے سے دنیا میں ہمیشہ ظہور پذیر ہوتے رہیں گے۔اب اس زمرہ میں مرزا صاحب شامل ہیں یا نہیں، یہ علیحدہ سوال ہے۔مگر بات اصل یہی ہے کہ بنی نوع انسان میں جب تک روحانیت کی صلاحیت قائم ہے، ایسے حضرات مثالی زندگی پیش کر کے لوگوں کی رہنمائی کے لئے تمام اقوام اور تمام ممالک میں پیدا ہوتے رہیں گے۔اگر کوئی شخص اس کے خلاف رائے رکھتا ہے تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ اس نے بشری وقوعات سے روگردانی کی۔فرق صرف یہ ہے کہ آدمی کو فی زمانہ یہ حق ہے کہ ان حضرات کے واردات قلبیہ کا ناقدانہ طور پر تجزیہ کرے۔ختمیت انبیاء کا مطلب یہ ہے جہاں اور بھی کئی باتیں ہیں کہ دینی زندگی میں جس کا انکار عذاب اخروی کا ابتلاء ہے، اس زندگی میں ذاتی نوعیت کا تحکم و اقتدار اب معدوم ہو چکا ہے۔“ اقبال کے مندرجہ بالا اقتباس کا نتیجہ اٹارنی جنرل نے یہ نکالا کہ:۔اس لئے جناب والا ! آئندہ کوئی فرد یہ نہیں کہے گا کہ مجھے وحی الہی ہوتی ہے اور یہ اللہ کا پیغام ہے جس کا ماننا تم پر لازم ہے۔لازم صرف وہی ہے جو قرآن پاک میں پہلے سے آچکا ہے۔“ اقبال کی اس عبارت پر ذرا غور کریں تو اس کا مفہوم وہ نہیں ہے جو اٹارنی جنرل نے اخذ کیا ہے۔اٹارنی جنرل نے ختم نبوت کا جو یہ اجتماعی مفہوم گو یا بیان کر دیا کہ بس اب وحی بند ہے۔اس پر علامہ اقبال کا مئوقف وہی ہے جو حضرت محی الدین ابنِ عربی (۵۶۰ هجری - ۶۳۸ هجری) کا ہے، صرف زبان اور اصطلاحات کا فرق ہے۔اقبال فلسفہ کی زبان میں وہی کچھ کہہ رہے ہیں جو حضرت محی الدین ابن عربی الہیات اور تصوف کی زبان میں فرما رہے ہیں۔ملاحظہ ہو :- فَالنِّبُوَّةِ سَارِيَةٌ إِلَى يَومِ الْقِيَامَةِ فِى الْخَلْقِ وإِنْ كَانَ التَّشْرِيعُ قَدْ انْقَطَعَ فَالتَّشْرِيْعِ جُزْءٌ مِن أَجْزَاءِ النَّبِوَّة فَإِنَّهُ يَسْتَحِيْلُ أَنْ يَنْقَطِعَ خَبَرُ الله وأخباره مِنَ الْعَالم إِذ لَوِ انْقَطَع وَلَمْ يَبْقَ لِلْعَالَمَ عَذَاءِ يَتَغذِى بِهِ فِي بِقَاءِ وجودہ۔(الفتوحات المكية الجزء الثالث - صفحه ۱۵۹ ، سوال نمبر ۸۲ - دار الفكر للطباعة والنشر والتوزيع الطبعة ١٩٩٤ء) ترجمہ: نبوت مخلوق میں قیامت کے دن تک جاری ہے گو تشریعی نبوت منقطع ہوگئی ہے۔پس شریعت، نبوت کے اجزاء میں سے ایک جزو ہے۔اور یہ محال ہے کہ اللہ کی طرف سے خبریں آنی منقطع ہو جائیں اور دنیا کے لئے غذا باقی نہ رہے، جس سے اس کے وجود کو بقا حاصل ہو۔گویا محی الدین ابن عربی ” نبوت“ کا لفظ استعمال کر رہے ہیں۔اقبال اسے عارفانہ واردات“ کہتے ہیں۔محی الدین ابنِ عربی، اخبار الہی کا منقطع ہونا محال قرار دیتے ہیں تو اقبال یہ کہتے ہیں، ” مگر بات اصل یہی ہے بنی نوع انسان میں جب تک روحانیت کی صلاحیت قائم ہے، ایسے حضرات مثالی زندگی پیش کر کے لوگوں کی رہنمائی کے لئے تمام اقوام اور تمام ممالک میں پیدا ہوتے رہیں گے۔اگر کوئی شخص اس کے خلاف رائے رکھتا ہے تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ اس نے بشری وقوعات سے روگردانی کی۔“