احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں — Page 36
رکھتا ہو۔آئیے پہلے اس جملہ کی ترکیب کو لیں۔اسلام کے اندر حیثیت یا حقیقت پر بحث کرنا۔اگر ایوان کی یہ رائے ہو کہ جو لوگ حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان نہیں رکھتے ، وہ مسلمان نہیں ہیں ، تو پھر ایسے لوگوں کا اسلام سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے۔تحریک بذات خود اپنے اندر تضاد رکھتی ہے۔اگر یہ کہا جاتا کہ اسلام میں یا اسلام کے حوالہ سے بحث کرنا تو پھر بات سمجھ میں آسکتی تھی۔لیکن یہ کہنا کہ اسلام میں حیثیت یا مقام‘ اس سے قیاس کیا جاتا ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک تضاد ہے جو زیادہ اہم نہ بھی ہو لیکن یہ تضاد ایوان کے نوٹس میں لانا میرا فرض تھا۔یہ آپ نہیں کہہ سکتے کہ اسلام میں ان کی حیثیت کیا ہے۔ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ اسلام کے حوالے سے ان کی حیثیت کیا ہے“۔گویا اٹارنی جنرل خود ہی مفتی بھی بن گئے ، عالم دین بھی بن گئے اور یہ فیصلہ صادر کر دیا کہ تحریک اپنے اندر تضاد رکھتی ہے۔جب کوئی ختم نبوت کے ایک مخصوص مفہوم کا انکاری ہو گیا تو اس کی حیثیت اسلام میں متعین کرنے کا کیا سوال ہے؟ وہ اس بحث میں نہیں پڑے کہ آخر کوئی تصفیہ طلب اختلاف تھا تو معاملہ قومی اسمبلی میں اٹھایا گیا۔اور وہ اختلاف ایسا تھا کہ اس وقت کے سیاسی اقتدار کی سوچ کے مطابق اس مسئلہ پر قومی اسمبلی کا غور کرنا ضروری تھا ورنہ وہ مسئلہ قومی اسمبلی میں نہ اٹھایا جاتا۔جماعت احمدیہ کے امام اور وفد کو قومی اسمبلی میں طلب کرنے کا مبینہ مقصد ہی یہ تھا کہ اس مسئلہ پر ان کو اپنا موقف بیان کرنے کا موقعہ دیا جائے اور پھر یہ غور ہو کہ ختم نبوت کے بارہ میں ایسا مئوقف رکھنے والوں کی اسلام میں کیا حیثیت ہے۔بات اسلام کے حوالہ سے ہی ہونی تھی اور اسی حوالہ سے غور بھی ہونا تھا۔یہ بات کہ اسلام میں ان کی حیثیت کیا ہے اور اسلام کے حوالہ سے ان کی حیثیت کیا ہے نفس مضمون کے لحاظ سے ایک ہی بات تھی مگر اٹارنی جنرل نے اسلام کے حوالہ سے بھی اس سوال پر بحث کرنا ضروری نہ سمجھا اور مجھ لیا کہ اس بات پر امت مسلمہ مبینہ طور پر متفق ہے۔اور اس بات پر کوئی بحث نہیں کی کہ امت کا اتفاق موجود تھا بھی یا نہیں۔امام جماعت احمد یہ اپنے تفصیلی بیان میں کہہ چکے تھے کہ امت کے آئمہ سلف کا اتفاق اس مفہوم پر تھا جو جماعت احمدیہ کے عقیدہ سے مطابقت رکھتا ہے۔جناب اٹارنی جنرل گیارہ دن تک حضرت امام جماعت احمدیہ پر جرح کرتے رہے۔اللہ وسایا کی کتاب سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس معاملہ پر علماء دین نے ، جو اسمبلی میں موجود تھے، کوئی مواد اٹارنی جنرل کو مہیا نہیں کیا جو اٹارنی جنرل بیان کریں کہ ایسے شخص کی اسلام میں کیا حیثیت ہے۔اس مسئلہ پر مکمل خاموشی رہی کوئی قرآن و سنت کا حوالہ، کوئی آئمہ سلف کے اقوال پیش نہیں کئے گئے اور کوئی ایک سوال بھی اس بارے میں نہیں کیا گیا کہ دین اسلام کے اندر ایسے شخص کی حیثیت یا حقیقت کیا ہے جو حضرت محمد مے کے آخری نبی ہونے پر ایمان نہ رکھتا ہو۔اور نہ ہی اللہ وسایا کی مرتبہ کتاب کے مطابق اٹارنی جنرل نے اپنی آخری بحث میں قرآن وحدیث کے حوالے سے اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی۔حالانکہ جماعت احمدیہ اپنے محضر نامے میں اس بارے میں مفصل بیان داخل کر چکی تھی جس میں قرآن وحدیث کے علاوہ تیرہ صدیوں کے بزرگانِ سلف کی تحریرات و تفاسیر اس سوال کے جواب میں پیش کی تھیں۔علماء دین میں سے کوئی بھی اٹارنی جنرل کی مددکو نہ پہنچے اور یوں۔رہروی میں پرده کھلا رہبر اٹارنی جنرل صاحب خود تو عالم دین ( روایتی مفہوم میں ) تھے نہیں، نہ ان کو اس بارہ میں کوئی دعوی تھا۔بلکہ وہ خود اقراری ہیں کہ ان کے لئے زبان کا مسئلہ ہے۔مراد ان کی غالبا عربی زبان سے تھی، ورنہ اردو اور انگریزی پر تو انہیں عبور حاصل تھا۔علماء دین نے ان کو جماعت احمدیہ کے اٹھائے گئے سوالات اور حوالوں کا جواب مہیا نہیں کیا اور بیچارے اٹارنی جنرل صاحب کو علامہ اقبال پر انحصار کرنا پڑا۔انہوں نے علامہ اقبال کے متعدد حوالے دئے۔علامہ اقبال نے عصر جدید میں پڑھے لکھے ذہنوں پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔علامہ کے فکر میں جدت پسندی ، کسی حد تک روایت سے بغاوت ، خانقاہوں اور تصوف اور ملائیت کی مخالفت اور فلسفہ اور منطقی مباحث شامل ہیں۔علامہ اقبال نے اسلام کا مطالعہ بھی فلسفہ کی نظر سے کیا ہے اور کہا جا سکتا ہے کہ اقبال نے اسلامی فکر کو ایک نئی زبان عطا کی ہے۔گو اس بارہ میں اختلاف ہو سکتا ہے، اور موجود ہے کہ ایسا کرنے میں اقبال کا فلسفیانہ نقطۂ نظر کہاں تک اسلامی فکر سے ہم آہنگ ہے۔علامہ اقبال خود اپنے بارے میں فرما چکے ہیں:۔