احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں — Page 35
بڑے بھیا نک ہو سکتے ہیں۔جماعت احمدیہ کے میمورنڈم میں اس بات کا بھی جائزہ لیا گیا کہ اگر تحصیل بہ تحصیل آبادی کا جائزہ لیا جائے تو بھی ضلع گورداسپور اور اسکی تمام تحصیلوں کو پاکستان میں آنا چاہئے اور اگر ذیل کو اکائی قرار دیا جائے یا تھانہ کو کائی قرار دیا جائے تو بھی قادیان کو پاکستان میں آنا چاہئے۔کیونکہ ذیل جو کہ پچاس ساٹھ دیہات پر مشتمل اکائی ہوتی ہے اگر اس کو بنیاد بنایا جائے تو قادیان جو کہ دلہ کی ذیل میں آتا ہے اس میں مسلمان اکثریت ۶۱ء ۱۰ فی صد ہے اور قادیان سے مشرق کی جانب دریائے بیاس تک اور مغرب کی جانب بٹالہ تک سارے کے سارے ذیل مسلم اکثریت کے ذیل ہیں اس لئے قادیان کو پاکستان میں شامل ہونا۔یہ میمورینڈم کتاب کی جلد اول کے صفحہ ۴۲۸ سے لے کر ۴۵۹ ہے۔اس ا لفظ ریکارڈ پر موجود رینڈم کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک نہایت مدلل اور قومی دستاویز ہے جس کا مطالعہ قارئین کی دلچسپی کا باعث ہوگا۔غرضیکہ حقائق اتنے واضح روشن اور واشگاف ہیں کہ اس بارہ میں اٹارنی جنرل کی طرف سے سوال اٹھایا جانا نا قابل فہم ہے۔تاریخ میں جن لوگوں کی وابستگیاں کانگریس کے ساتھ رہی ہوں اور جوستی شہرت حاصل کرنے کے لئے پبلک سٹیج پر سادہ لوح عوام کو گمراہ کرنے کے لئے من گھڑت غیر مستند بے سروپا الزامات دہرانے کے عادی ہوں ان کی بات اور ہے مگر قومی اسمبلی ہر شہری کے نزدیک متانت، وقار اور ثقہ بحث کی آئینہ دار ہونی چاہئے تھی۔خصوصی کمیٹی میں یہ سوال اٹھا کر کمیٹی کی پوری کاروائی کو مسند اعتبار سے گرا کر مشتبہ بنادیا گیا۔کمیٹی کے سامنے جو بات زیر غور تھی وہ عقیدہ ختم نبوت سے تعلق رکھتی تھی۔اگر اس سوال کا مقصد تحریک پاکستان سے سیاسی وابستگی یا عدم وابستگی ظاہر کرنا تھا تو ترمیم ان الفاظ میں ہونی چاہئے تھی :۔” جو شخص تحریک پاکستان میں مسلم لیگ کے مفاد کے خلاف کام کر چکا ہو وہ آئین اور قانون کی اغراض سے غیر مسلم ہوگا اور پاکستانی شہریت کا حقدار نہ ہوگا۔“ اگر یہ مقصد ہوتا تو جماعت احمد یہ تو اپنے علیحدہ میمورینڈم کے باوجود اس تعریف میں نہ آتی مگر یہ ختم نبوت والے احراری اور کانگریسی علماء ضرور اس تعریف میں آجاتے۔عقل دنگ ہے کہ اٹارنی جنرل ان مولویوں کے ہاتھوں ایسے بے بس ہو گئے کہ ان کو اپنا بنیادی ریفرینس ہی بھول گیا۔مگر کیا کیجئے اللہ وسایا کی کتاب سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے۔( مطبوعه : الفضل انٹر نیشنل سرمئی ۲۰۰۲ تا ۹ رمئی ۲۰۰۲) (ساتویں اور آخری قسط) (11) اٹارنی جنرل کی آخری بحث ( دلچسپ انکشاف ) اللہ وسایا کی مذکورہ کتاب کے مطالعہ سے بعض ایسے انکشافات بھی ہوئے ہیں جو سنجیدہ قارئین کے لئے دلچسپی کا باعث ہونگے۔اللہ وسایا کی مرتبہ کتاب کے صفحہ ۲۵۶ سے لے کر ۳۱۷ تک اٹارنی جنرل کا وہ مفصل بیان درج ہے جو گویا انہوں نے تمام کارروائی کے اختتام پر بحث کو سمیٹتے ہوئے دیا۔غالب گمان یہ ہے کہ اٹارنی جنرل کے اس بیان میں اللہ وسایا موصوف نے کوئی اختصار" یا " اجمال" کی کارروائی نہیں کی ہوگی اور بالخصوص کوئی ایسی ٹھوس اور مؤثر بات جو جماعت احمدیہ کے موقف کا توڑ اور نفی کرتی ہو اٹارنی جنرل کے بیان میں سے یقیناً حذف نہیں کی ہوگی۔حکومتی پارٹی کی طرف سے جو ریفرنس یعنی مسئلہ خصوصی کمیٹی کے سپر د ہوا تھا اس کا ذکر ہم گزشتہ صفحات میں کر چکے ہیں۔یہ بات حیرت اور دلچپسی کا موجب ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب نے اپنی آخری بحث میں یوں تو وزیر قانون کی تحریک اور حزب اختلاف کی قرار داد دونوں ہی پر تنقید کی، مگر وزیر قانون کی تحریک کو تو ایک ہی فقرے میں نمٹا دیا۔اٹارنی جنرل نے کہا:۔آغاز میں پہلے وہ تحریک جو کہ عزت ماب وزیر قانون نے پیش کی تھی ، جناب والا تحریک کے الفاظ یہ ہیں :۔” دینِ اسلام کے اندر ایسے شخص کی حیثیت یا حقیقت پر بحث کرنا جو حضرت محمد ﷺ کے آخری نبی ہونے پر ایمان نہ