احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں

by Other Authors

Page 34 of 42

احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں — Page 34

"For the Punjab: The boundary commission is instructed to demarcate the boundaries of the two parts of the Punjab on the basis of ascertaining the contiguous majorities areas will it So doing In Non-muslims۔and Muslims of take into account other factors۔" also دونوں فریق Terms of Reference میں Other Factors کی شق کی وجہ سے اپنے اپنے حق میں استدلال کرنا چاہتے تھے۔جماعت احمدیہ کا میمورینڈم کوئی علیحدہ یا انوکھی چیز نہیں تھی۔اس دستاویز میں سارا زور اس بات پر ہے کہ تقسیم پنجاب کے لئے خواہ کوئی طریقہ اپنایا جائے، قادیان کو پاکستان کا حصہ ہونا چاہیئے۔اس کی تائید میں جماعت احمدیہ کی طرف سے شیخ بشیر احمد ایڈووکیٹ نے بحث کی جو جلد دوم کے صفحہ ۲۴۰ سے شروع ہوتی ہے اور بحث کا آغاز ہی اس فقرے سے ہوتا ہے۔میں اپنی معروضات کو ایک محدود سوال تک محدود رکھنا چاہتا ہوں یعنی مغربی پنجاب میں شامل کئے جانے کے لئے قادیان کا کلیم کیا ہے“۔صفحہ ۲۵۱ پر ان کا یہ بیان درج ہے کہ قادیان کے تقسیم کے Reference میں مسلمانوں کو یکجا رکھنا مقصود ہے اور آپس میں ملحقہ مسلم علاقوں کو یکجا رکھنا مقصد ہے۔“ انہوں نے کہا:۔تقسیم کی بنیا د مذہب ہے ، قادیان اسلامی دنیا کا ایک بین الاقوامی زنده مرکز بن چکا ہے۔لہذا اس اکائی کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ہندوستان میں شامل ہوں یا پاکستان میں اور ہمارا فیصلہ یہ ہے کہ ہم پاکستان میں داخل ہوں گے۔میمورنڈم میں صفحہ ۴۳۷ پر جو نکات پیش کئے گئے ہیں ان میں سے نمبر ایک پر یوں درج ہے:۔قادیان ضلع گورداسپور کی تحصیل بٹالہ کے تھانہ بٹالہ میں واقع ہے۔ہم یہ عرض کرتے ہیں کہ گورداسپور ضلع کو مغربی پنجاب میں شامل کئے جانے کا کلیم اتنا واضح اور متحکم بنیادوں پر قائم ہے کہ عملاً اس بارے میں کوئی بحث بھی باؤنڈری کمیشن کے دائرہ سے باہر ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وائسرائے نے اپنی پریس کا نفرنس میں یہ کہا تھا کہ اس ضلع میں مسلمانوں کی اکثریت صرف زیرو پوائنٹ آٹھ فی صد ہے۔اس لئے ضلع گورداسپور کے بعض حصے لازماً غیر مسلم اکثریت کے ہوں گے۔ہماری گزارش یہ ہے کہ اس بارے میں وائسرائے کی معلومات درست نہیں تھیں۔۱۹۴۷ء کی مردم شماری رپورٹ کے مطابق ضلع گورداسپور کی مسلمان آبادی کل آبادی کا ۶۴۹ ۱۴ فی صد ہے۔اس طرح سے مسلمانوں کی آبادی دوسروں کی نسبت ۸۶۲ فی صد زیادہ ہے۔۸۰۰ فی صد نہیں۔اس میمورنڈم میں مزید وضاحت یہ کی گئی کہ اگر اچھوت اقوام اور ہندوستانی عیسائی ہندوؤں اور سکھوں کا ساتھ دیں تب بھی مسلمان آبادی ۸۶۲ فیصد زائد ہے۔مگر عیسائی راہنما ایس پی سنگھا، جو بٹالہ ضلع گورداسپور سے تعلق رکھتے ہیں، نے کہا۔۔کہ وہ پاکستان میں رہنا پسند کریں گے۔عیسائیوں کی آبادی ضلع گورداسپور میں ۴۶۶۴ فیصد ہے۔اگر اس کو مسلمان آبادی کے ساتھ شامل کر لیا جائے تو پھر ضلع گورداسپور میں پاکستان میں شمولیت اختیا ر کرنے والوں کا تناسب ۶۰۶۵۵ فیصد ہو جاتا ہے۔اور یہ معتد بہ تفاوت ہے۔میمورنڈم میں دوسری ص (۱) تحصیل بٹالہ ۰۷۶۵۵ تحصیلوں کے بارے میں یہ اعداد و شمار دیئے گئے۔(۲) تحصیل گورداسپور ۱۵۶۵۲ (۳) تحصیل شکر گڑھ ۱۴۶۵۳ (۴) تحصیل پٹھانکوٹ ۸۸۶۳۸ اور اس میمورنڈم میں یہ واضح کیا گیا کہ تحصیل بٹالہ میں مسلمانوں کی آبادی ۴۶۱۰ فی صد زیادہ ہے۔تحصیل گورداسپور میں ۳۰۶۴ شکرگڑھ میں ۲۸۶۶ فی صد اور اگر ان عیسائیوں کو شامل کر لیا جائے جو پاکستان میں شمولیت کے خواہاں ہیں تو پھر تحصیل بٹالہ میں اکثریت ۶۶۰ ۵۳ فی صد اور تحصیل شکر گڑھ میں ۸۸۶۵۴ فی صد ہو جاتی ہے۔وو تحصیل پٹھانکوٹ کے بارے میں جماعت احمدیہ نے یہ کہا کہ اس کو بھی پاکستان میں شامل ہونا چاہئے۔کیونکہ اس میں OTHER FACTORS “ کی شق کے تحت پاکستان میں شامل کئے جانے کے قومی دلائل موجود ہیں۔جو یہ ہیں کہ دریائے را وی اس تحصیل میں سے گزرتا ہے اور پھر مغربی پنجاب میں داخل ہوتا ہے اس میں سے جو نہریں نکالی گئی ہیں ان کا ھیڈ ورکس مادھو پور ہے۔اور یہ نہریں مغربی پاکستان کے علاقے کو سیراب کرتی ہیں اور اس کو مشرقی پنجاب میں شامل کئے جانے کے نتائج