احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں — Page 32
(1) پہلی بات تو واضح ہے جسٹس منیر کو خود اپنے حافظہ پر اسوقت پورا بھروسہ نہیں اور یادداشت تازہ کرنے کی جس کوشش کا ذکر کیا ہے وہ کوشش جگہ جگہ دھوکہ دے گئی ہے۔لہذا بعض باتیں جن کی دوسرے ذرائع سے تصدیق ہو سکتی ہو، یقینا ہم ہیں۔(۲) مضمون کی پہلی قسط کے کالم نمبر ۳ میں انہوں نے لکھا:۔” مسٹرشیل وارڈ کانگرس کی طرف سے پیش ہوئے۔مسٹر ہرنام سنگھ سکھوں کی طرف سے اور سر محمد ظفر اللہ خان مسلم لیگ اور احمدیوں کی طرف سے“۔یہاں ان کے حافظہ نے واضح طور پر ٹھوکر کھائی ہے۔ریکارڈ سے ظاہر ہے کہ ظفر اللہ خان مسلم لیگ کی طرف سے پیش ہوئے تھے، احمدیوں کی طرف سے نہیں۔جماعت احمدیہ کی طرف سے شیخ بشیر احمد صاحب پیش ہوئے تھے۔حافظے نے جو یہاں ٹھو کر کھائی ہے اسکی اہمیت صرف یہ نہیں کہ انہوں نے احمدیوں کی طرف سے سر ظفر اللہ کے پیش ہونے کا کہا بلکہ اصل اہمیت یہ ہے که شیخ بشیر احمد جسٹس منیر کے ذہن سے بالکل غائب ہیں۔لہذا انکی طرف سے پیش کردہ دلائل بھی انکے ذہن سے محو ہو چکے ہیں اور موجود نہیں۔(۳) اپنے مضمون کی تیسری قسط میں جہاں سے اٹارنی جنرل کا متصلہ سوال لیا گیا ہے جسٹس منیر نے یہ لکھا:۔احمدیوں نے گڑھ شنکر کے ایک حصے کے بارے میں ایسے اعداد و شمار دیئے جس سے یہ بات نمایاں ہوگئی کہ دریائے بین اور دریائے ہنستر کا درمیانی علاقہ غیر مسلم اکثریت کا علاقہ ہے“۔اول تو گڑھ شکر کےنام کی کوئی تحصیل گورداسپور میں تھی ہ نہیں۔گڑھ شکرضلع ہوشیار پور کی تحصیل تھی۔ظاہر ہے کہ وہ تحصیل شکر گڑھ کا ذکر کرنا چاہتے ہیں۔یہاں پر بھی ان کے حافظہ نے واضح ٹھوکر کھائی ہے۔(۴) دریائے بین دریائے بستر کا ذکر جماعت احمدیہ کے میمورنڈم میں سرے سے موجود ہی نہیں۔یہ بحث کانگرس کے وکیل مسٹر سیل وارڈ نے اٹھائی تھی کہ تقسیم تحصیل اور ضلعوں کی بجائے دریاؤں کے درمیان دوآبوں کی بنیاد پر کی جائے اور دریاؤں اور نہروں کو سرحد بنایا جائے۔تحصیل شکر گڑھ راوی کے اس پار واقع تھی اور واضح مسلم اکثریت کی تحصیل تھی لہذا کانگرس اسے دریاؤں کے درمیانی علاقوں کی بنیاد پر مشرقی پنجاب میں شامل کروانا چاہتی تھی۔جماعت احمدیہ کے میمورنڈم میں یا بحث میں کہیں بھی دریائے بین یا دریائے بستر کا ذکر موجود نہیں۔جماعت احمدیہ کا میمورنڈم پارٹیشن آف پنجاب کے صفحہ ۴۲۸ تا صفحه ۴۴۹ پر سرکاری طور پر شائع شدہ موجود ہے جو دیکھا جاسکتا ہے۔جماعت احمدیہ نے دریاؤں کو سرحد بنانے کے اصول کی مخالفت کی تھی اور ایک دلیل یہ دی تھی کہ دریا اپنے رخ بدلتے رہتے ہیں۔بہر حال اس بارے میں جسٹس منیر کے حافظہ نے ٹھوکر کھائی ہے۔اس سے پہلے جسٹس منیر اپنے ایک عدالتی فیصلے میں واضح طور پر لکھ چکے تھے۔احمدیوں کے خلاف معاندانہ اور بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہیں کہ باؤنڈری کمیشن کے فیصلے میں ضلع گورداسپور اس نے ہندوستان میں شامل کر دیا کہ احمدیوں نے ایک خاص رویہ اختیار کیا۔“ جو الزامات ۱۹۶۴ء کی تحریر کی بنیاد پر لگائے جارہے ہیں انہیں ۱۹۵۴ ء میں جسٹس منیر معاندانہ اور بے بنیاد قرار دے چکے ہیں۔یہ ایک عدالتی فیصلے کا حصہ ہے۔عدالتی فیصلے حقائق و واقعات سامنے رکھ کر احتیاط کے ساتھ لکھے جاتے ہیں۔۱۹۶۴ء کا بیان یادداشتوں پر مبنی ہے اور اس میں اندرونی تضاد موجود ہیں۔گورداسپور ایک سازش کے ماتحت ہندوستان میں شامل کیا گیا اور اس بارے میں ناقابل تردید تاریخی شہادت موجود۔دو ہے جواد پر پیش کی جاچکی ہے۔رہی یہ بات کہ تقسیم کے وقت جماعت احمدیہ نے ایک علیحدہ میمورینڈم کیوں داخل کیا ؟ اٹارنی جنرل کو معلوم ہونا چاہئے تھا اور اگر نہیں معلوم تھا تو انہیں متعلقہ محکمہ یا ریکارڈ سے اس بات کی تسلی کر لینی چاہئے تھی۔اگر وہ ایسا کرتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ تقسیم پنجاب کے بارے میں سرکاری طور پر شائع کردہ ریکارڈ کے مطابق ۱۸ جولائی ۱۹۴۷ ء تک ۴۹ میمورینڈم مختلف تنظیموں کی طرف سے داخل کئے گئے تھے جن کی فہرست ریکارڈ میں دستاویز ۲۴۳ کے طور پر مذکورہ کتاب کے صفحہ ۴۷۴ پر درج ہے۔جن میں:۔(1) پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈ ریشن۔(۲) سٹی مسلم لیگ، منٹگمری۔(۳) بٹالہ مسلم لیگ ، بٹالہ۔