احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں

by Other Authors

Page 31 of 42

احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں — Page 31

اس تنازعہ کی دلیل بنتی تھی کہ اگر اچ دریا اور بین دریا کا درمیانی علاقہ ہندوستان کومل جائے تو بین دریا اور بستر دریا کا درمیانی علاقہ خود بخودہندوستان کو چلا جاتا ہے، جیسا کہ ہوا۔احمدیوں نے جو رویہ اختیار کیا تھا، وہ ہمارے لئے گورداسپور کے بارے میں خاصا پریشان کن ثابت ہوا۔مسلمان ۵۱ فیصد تھے ہند و۴۹ فیصد احمدی ۲ فیصد۔جب یہ مسلمانوں سے علیحدہ ہوگئے تو مسلمان ۵۱ کی بجائے ۴۹ فیصد ہو گئے۔اس سے گورداسپور جاتا رہا اور کشمیر کا مسئلہ پیدا ہو گیا۔آپ کہتے ہیں کہ ہم نے لیگ سے تعاون کیا مگر یہ قضیہ تو عجیب سا لگتا ہے۔مرزا ناصر احمد : جسٹس منیر صاحب نے اپنی رپورٹ میں ظفر اللہ خان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ، اب اس کے ۱۷ سال بعد جب بوڑھے ہو گئے تو یہ بیان دے دیا۔وہ بوڑھے ہو چکے تھے، باؤنڈری کمیشن کے یہ جج تھے۔پہلے خراج تحسین اور اب یہ شکوک۔۱۷ سال کی خاموشی کے بعد جب وہ کافی بوڑھے ہو چکے تھے ، شاید ممکن ہے بڑھاپے کی وجہ سے جو بات جوانی سے سمجھ آئی ہو، وہ بڑھاپے میں نہ سمجھ آئی ہو۔اٹارنی جنرل : یا اچھا جواب ہے۔خیر میں صرف آپ کی توجہ دلانا چاہتا تھا مگر علیحدہ یاد داشت کیوں پیش کی۔” میرے یادگار دن“ کے عنوان سے جسٹس محمد منیر کے جس مضمون کا ذکر کیا گیا ہے اس کے بارے میں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جسٹس منیر کی عبارت نقل کرنے کے بعد جو نتیجہ اٹارنی جنرل کے سوال میں نکالا گیا ہے وہ اس بیان سے ہرگز نہیں نکلتا۔یہ بات که ” مسلمان ۵۱ فیصد تھے ہند و ۴۹ فیصد اور احمدی ۲ فیصد۔جب یہ مسلمانوں سے علیحدہ ہو گئے تو مسلمان ۵۱ فیصد کی بجائے ۴۹ فیصد ہو گئے اس سے گورداسپور جاتا رہا اور کشمیر کا مسئلہ پیدا ہو گیا۔آپ کہتے ہیں کہ ہم نے لیگ سے تعاون کیا مگر یہ قضیہ تو عجیب سا لگتا ہے۔یہ ساری بات جسٹس منیر کے مضمون میں نہیں۔(۱) یہ بات بھی موجود نہیں کہ مسلمان ۵۱ فیصد اور ہند و۴۹ فیصد تھے۔(۲) یہ بھی نہیں کہ احمدی ۲ فیصد تھے۔(۳) یہ بات بھی جسٹس منیر کے مضمون میں موجود نہیں کہ احمدی مسلمانوں سے علیحدہ ہو گئے تو مسلمان ۴۹ فیصد رہ گئے۔یہ سارا اعداد و شمار کا افسانہ جسٹس منیر کے مضمون میں موجود نہیں، از خود تراش لیا گیا ہے۔جسٹس منیر نے اپنے بیان میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ گورداسپور اس وجہ سے جاتا رہا کہ ” احمدی مسلمانوں سے علیحدہ ہو گئے۔یہ سارا قصہ ہی ایک شرانگیز افسانہ ہے۔البتہ جسٹس منیر نے اپنے مضمون میں یہ لکھا:۔انہوں نے گڑھ شنکر کے مختلف حصوں کے بارے میں اعداد و شمار دیئے۔اعدادو شمار کیا تھے ؟ ان کا ذکر نہیں۔اس بیان کے بارے میں جو جواب حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کی طرف منسوب اللہ وسایا کی کتاب میں شائع کیا گیا ہے اس کو اٹارنی جنرل صاحب نظر انداز کر کے آگے چل پڑے۔اس سوال جواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ تفصیلات ضرور حذف کر دی گئی ہیں اور قارئین سے پوشیدہ رکھی گئی ہیں۔مگر اس سوال کے اندرا یسے شواہد موجود ہیں اور جسٹس منیر کے پورے مضمون کے مطالعہ سے یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ مرزا ناصر احمد صاحب کا جواب جیسا بھی درج کیا گیا ہے وہ درست تھا۔جسٹس منیر نے جب یہ مضمون لکھا تو ضعیف العمری کی وجہ سے انکی یاد داشت ماند پڑ چکی تھی اور ان کے حافظہ نے ساتھ نہیں دیا۔اس بات کی اندرونی شہادت اس مضمون کے اندر موجود ہے اور بیرونی شہادت ریکارڈ پر موجود ہے۔اندرونی شہادت جسٹس منیر نے اپنے مضمون کے آغاز میں ہی خود لکھا:۔حافظے کی مثال ایک ایسے باکس کی ہے جس کی گنجائش محدود ہو جو بچپن سے اس ترتیب سے بھرنا شروع ہو جاتا ہے جس ترتیب سے واقعات رونما ہوتے ہیں تا وقتیکہ میری عمر میں پہنچ کر اوپر تک بھر جاتا ہے۔فزیالوجی کے اسی اصول کے تحت پہلے رونما ہونے والے تازہ واقعات کی نسبت بہتر محفوظ رہتے ہیں۔چونکہ باکس بھر چکا ہوتا ہے اور واقعات رونما ہونے کے جلد بعد ہی دوسرے رونما ہونے والے واقعات کی وجہ سے چھلک جاتے ہیں لیکن بعض تازہ واقعات اپنی اثر پذیری کی وجہ سے اتنے ٹھوس ہوتے ہیں کہ وہ کبھی نہیں بھولتے اور یاد داشت تازہ کرنے کی معمولی کوشش سے با آسانی اپنی شکل میں سامنے آجاتے ہیں۔جو میں کہنے والا ہوں وہ مؤخر الذکر سے تعلق رکھتے ہیں“۔