احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں

by Other Authors

Page 30 of 42

احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں — Page 30

was no rail connection across the river here (one was under construction in1965)۔Had Radcliffe awarded Gurdaspur to Pakistan, there would have been no land commmunication between India and Jammu-Kashmir (Notes on the Radcliffe Award by S Sharif-ud-Din Pirzada; The Partition of The Punjab, Vol 1; -- National Documentation Center, 1983, Page xxxix) ترجمہ:۔لیکن گورداسپور کے معاملہ میں "Other Factors" زیر غور آگئے ، جیسا کہ فیروز پور کے بارہ میں آئے تھے اور آبپاشی کا نظام ان میں سے ایک تھا۔یوں نظام آبپاشی کی دلیل آبادی کی دلیل کو تقویت پہنچاتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔اگر ” ملحقہ اکثریتی آبادی کا اصول ضلعوں پر مجموعی طور پر لاگو کیا جاتا تو منطقی طور پر فیروز پور ، امرتسر اور جالندھر ہندوستان کو دئے جاتے اور گورداسپور پاکستان کو۔اور اگر نظام آبپاشی کی دلیل کو فوقیت دی جاتی تو پھر مادھو پور ہیڈ ورکس ، جس سے لا ہور کا ضلع سیراب ہوتا تھا اور پاکستان کو پانی دئے بغیر لاہور کو پانی مہیا نہیں کر سکتا تھا، پاکستان کو کیوں نہ دیا جاتا۔پاکستان دو جنوبی لہروں کا پانی روک لیتا تو ہندوستان فیروز پور ہیڈ ورکس سے دیپالپور کی نہر کا پانی روک سکتا تھا۔مگر آبپاشی کی سیدھی سادی منطق گورداسپور کے معاملہ میں بظاہر مزید "Other Factors" کی زد میں آگئی۔مشرقی پنجاب، اور یوں ہندوستان کو جموں اور کشمیر سے ملانے والی واحد سڑک گورداسپور میں واقع تھی اور راوی پر مادھو پور ہیڈ ورکس کا پل لاہور کے بالائی علاقہ میں واحد پل تھا۔امرتسر اور جالندھر سے ریل پٹھانکوٹ پر ملتی تھی، جس کی ایک شاخ مادھو پور کو جاتی تھی۔اگر چہ دریا کے اس پار، اس وقت ریل کا کوئی راستہ نہیں تھا ( جو ۱۹۶۵ء میں زیرتعمیر تھا۔اگر ریڈ کلف گورداسپور پاکستان کو دے دیتا تو ہندوستان اور جموں کشمیر کے درمیان کوئی زمینی رابطہ ند رہتا۔الغرض باؤنڈری کمیشن کے رکن جسٹس محمد منیر ، قومی اور بین الاقوامی محققین سب اس بات پر متفق ہیں کہ گورداسپور بددیانتی سے ہندوستان کو دے دیا گیا اور اس بارہ میں اکثریت کے اصول کو نظر انداز کر دیا گیا۔یہ ساری تفصیلات پاکستان کی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے کسی بھی بیدار مغز علم دوست اور سیاسی وقائع سے دلچسپی رکھنے والے شہری کو معلوم ہونی چاہئیں۔کم از کم مسلم لیگی کارکنان اور سب سے بڑھ کر مسٹر یحیی بختیار اٹارنی جنرل کے علم میں ہونی چاہئے تھیں۔مگر اٹارنی جنرل تو مولویوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے تھے۔سچائی سے انہیں کوئی سروکار نہیں تھا اور جھوٹ کو اچھا ل رہے تھے۔کیا۔(مطبوعہ: الفضل انٹر نیشنل ۲۶ را پریل ۲۰۰۲ تا ۲ رمئی ۶۲۰۰۲) (چھٹی قسط) اٹارنی جنرل نے آگے چل کر پھر جسٹس منیر کے ایک اخباری مضمون کے حوالہ سے غلط اور نامکمل معلومات کی بنا پر یہ سوال اٹارنی جنرل : آزادی کی جدو جہد میں باؤنڈری کمیشن کا مرحلہ آتا ہے۔جسٹس منیر صاحب کے حوالے سے ظفر اللہ خان کی بڑی خدمات ہیں۔وہ پاکستان کی نمائندگی کر رہے تھے۔مسلم لیگ کے وکیل تھے۔لیکن جسٹس منیر صاحب جو باؤنڈری کمیشن کے رکن تھے انہوں نے پاکستان ٹائمز۔میں ۲۴ جون ۱۹۶۴ء آرٹیکل لکھے۔ان میں یہ بھی تھا۔” پاکستان ٹائمنز ۲۱ جون ۱۹۶۴ ” میرے یادگار دن۔معاملہ کے اس حصے کے متعلق میں ایک نہائت ہی نا خوشگوار واقعہ کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔مجھے یہ بات کبھی سمجھ نہیں آئی کہ احمدیوں نے علیحدہ عرضداشت کیوں دی تھی اس قسم کی عرضداشت کی ضرور تبھی ہوسکتی تھی جب احمدی مسلم لیگ کے نقطۂ نظر سے متفق نہ ہوتے ، جو کہ بذاتِ خود ایک افسوسناک صورت حال ہوتی۔ہو سکتا ہے کہ اس طرح احمدی مسلم لیگ کے نقطہ نظر کی تائید کرنا چاہتے ہوں مگر ایسا کرتے ہوئے انہوں نے گڑھ شنکر کے مختلف حصوں کے بارے میں اعداد و شمار دیے جن سے یہ بات نمایاں ہوئی کہ بین دریا اور بستر دریا کے مابین کا علاقہ غیر مسلم اکثریت کا علاقہ ہے اور یہ بات