احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں

by Other Authors

Page 25 of 42

احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں — Page 25

احمدیوں نے اپنے میمورنڈم کے شروع ہی میں آٹھ اہم نکات قادیان کو پاکستان میں شامل کئے جانے کی بنیاد کے طور پر درج کئے۔جس میں پہلا نکتہ یہ تھا کہ قادیان اسلام میں عالمگیر جماعت احمدیہ کا فعال مرکز ہے۔اور سا تواں نکتہ یہ تھا کہ قادیان جس ضلع میں واقع ہے اس میں واضح مسلمان اکثریت ہے۔جماعت احمدیہ کے میمورنڈم میں اہم نکات بیان کرنے کے بعد پہلے ہی پیرے میں لکھا کہ جماعت احمد یہ جو مسلمانوں کا اہم مذہبی حصہ ہے اور جس کی دنیا بھر میں شاخیں ہیں اس کا مرکز ضلع گورداسپور میں ہے۔مغربی اور مشرقی پنجاب کی عبوری تقسیم میں یہ ضلع دونوں حصوں کی سرحد پر واقع ہے اور باؤنڈری پر فریقین کے تنازع میں اس ضلع پر دونوں فریق نے دعوی کیا ہے۔الہذا جماعت احمد یہ اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لئے ضروری سمجھتی ہے کہ اپنا نقطہ نظر باؤنڈری کمیشن کے سامنے پیش کرے۔چنانچہ میمورنڈم کے آغاز ہی میں میمورینڈم کے پیش کئے جانے کی اغراض بیان کرتے ہوئے تین مرتبہ اس بات کا اظہار موجود ہے کہ احمدی مسلمان ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اس لئے ضلع گورداسپور پاکستان میں شامل ہونا چاہئے۔(Partition Of Punjab Vol۔I; P:428-429) جب اس میمورینڈم پر بحث کا وقت آیا تو بحث کے پہلے فقرہ ہی میں کہا گیا کہ قادیان کو مغربی پنجاب میں شامل ہونا چاہئے۔اور دورانِ بحث اس بات پر زور دیا گیا کہ قادیان جو تحصیل بٹالہ میں ہے مسلم اکثریت کا علاقہ ہے۔“ جماعت احمدیہ کے میمورینڈم اور بحث کے علاوہ باؤنڈری کمیشن کی کارروائی میں یہ بات بار بار سامنے آئی کہ احمدی مسلمان ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ ہیں۔بحث کے دوران احراری اور کانگریسی علماء کے پھیلائے ہوئے زہر کا اثر جسٹس نتیجہ سنگھ کے ایک سوال سے بھی ظاہر ہوا۔مسٹر جسٹس نتیجہ سنگھ : احمد یہ جماعت کی اسلام کے حوالہ سے کیا پوزیشن ہے؟ شیخ بشیر احمد : وہ اول و آخر مسلمان ہونے کے مدعی ہیں۔وہ اسلام کا حصہ ہیں۔(Partition Of Punjab Vol۔II; P:213) اس طرح سے خود کانگریس کے وکیل نے اپنی بحث میں ضلع گورداسپور کو غیر مسلم اکثریت کا علاقہ قرار دیتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ ضلع گورداسپور میں مسلمانوں کی اکثریت صرف اس وجہ سے ہے کہ تین چھوٹے چھوٹے حصوں یعنی قادیان، فتح گڑھ چوڑیاں اور بٹالہ میں ان کی اکثریت بہت زیادہ ہے۔اور ان تین علاقوں کے مسلمانوں کی تعدا د نکال دی جائے تو ضلع غیر مسلم اکثریت کا نظر آتا ہے۔گویا سیل واڈ نے بھی قادیان کو مسلم اکثریت کے علاقہ کے طور پر شمار کیا اور اپنی بحث کو ایک نیا موڑ دے دیا۔سیتل واڈ کی بحث کے دوران جسٹس منیر نے کہا :- مسٹر جسٹس منیر احمد : میں سمجھ گیا ہوں بٹالہ کے یہ چھوٹے چھوٹے دو نقطے دیکھیں۔آپ ان کے بارہ میں کیا کہتے ہیں مسٹر سیل واڈ: تیسرا قادیان کا قصبہ ہے۔مسٹر جسٹس منیر: اس کی آبادی کیا ہے؟ مسٹر سیتل واڈ: اعداد وشمارا بھی آپ کو دیتا ہوں۔مسٹر جسٹس منیر : کیا میں سمجھوں کہ اس پوری تحصیل میں قادیان کے علاوہ کوئی مسلم اکثریت کا علاقہ نہیں۔مسٹر سیل واڈ نہیں جہاں تک میں نقشہ کو دیکھتا ہوں ایسا ہی ہے۔ہم نے مسلم اکثریت کے بڑے بڑے علاقے چنے ہیں اور ہمیں اس سائز کے اور علاقے نہیں ملتے۔لہذا ہم نے ان کو نقشے پر علیحدہ ظاہر نہیں کیا۔ہوں۔اسی طرح اپنی جوابی بحث میں مسٹر سیل واڈ نے کہا: (Partition Of Punjab Vol۔II; P:214) ” اب اگلے نقطے پر آئیے جو بٹالہ ہے اس میں آپ تین سفید حصے دیکھیں گے۔میں آپ کو اس تحصیل کے اعداد و شمار دیتا مسلمان غیر مسلم: 209277 177776 31501 کا فرق ہے اور یہاں میں نے تینوں pockets کو اکٹھا لے لیا ہے۔پہلا فتح گڑھ چوڑیاں ہے جہاں