احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں

by Other Authors

Page 24 of 42

احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں — Page 24

اسمبلی میں موجود علماء حضرات یہ سب باتیں جانتے تھے، حضرت مرزا صاحب کی کتب ان کے پاس موجود تھیں ، حوالوں اور اقتباسات کے پس منظر سے بھی واقف تھے، علم کلام اور مناظرہ کے معروف طریقوں سے بھی وہ واقف تھے اور مولانا احمد رضا خان بریلوی اور دیگر بزرگان کی طرف سے اسی انداز میں بائبل کے انہیں حوالوں سے اسی انداز میں دیئے گئے الزامی جوابات بھی علماء حضرات سے پوشیدہ نہیں تھے۔اس کے باوجود یہ اعتراض کہ حضرت مرزا صاحب نے نعوذ باللہ حضرت عیسی کی توہین کی، نا قابلِ فہم ہے اور تضیع اوقات اور اشتعال انگیزی کے سوا کچھ نہیں۔بالخصوص جب کہ یہ امر نہ وزیر قانون کی تحریک میں مذکور تھا، نہ حزب اختلاف کی قرارداد میں۔اصل مقصد یہی تھا کہ بنیادی سوال سے گریز کیا جائے اور عوام کو الجھادیا جائے۔(مطبوعہ: الفضل انٹر نیشنل ۱۹ را پریل ۲۰۰۲ تا ۲۵ را پریل ۶۲۰۰۲) (پانچویں قسط) (1+) باؤنڈری کمیشن اللہ وسایا کی کتاب کے مطابق اٹارنی جنرل نے قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کے سامنے یہ اعتراض بھی اٹھایا کہ:۔بوقت آزادی اور سرحدوں کی حد بندی کے وقت قادیانیوں نے ایک عرضداشت پیش کی کہ وہ مسلمانوں سے الگ ایک جماعت ہیں۔اس کا اثر یہ ہوا کہ پنجاب کے کنارے کے علاقوں میں مسلمان آبادی کا تناسب گھٹ گیا اور بالآخر ( ایوارڈ ) فیصلے میں گورداسپور ہندوستان کو دے دیا گیا تا کہ وہ کشمیر سے تعلق رکھ سکے۔(صفحه ۸۳) اور پھر جماعت احمدیہ کے امام جب ایک دوسرے سوال کی وضاحت میں جواب ریکارڈ کروارہے تھے تو انہوں نے خلیفہ ثانی کے ۱۳ نومبر ۱۹۴۶ء کے خطبہ کی وضاحت کرنا چاہی تو اٹارنی جنرل نے طنزاً کہا:- اٹارنی جنرل: ” ہندوؤں نے کہا کہ احمدی مسلمانوں سے علیحدہ ہیں۔آپ نے واقعہ میں مسلم لیگ سے علیحدہ میمورینڈم پیش کر دیا اور یوں مسلمانوں کی تعداد ۵۱ سے ۴۹ رہ گئی۔آپ کا خیال ہے کہ آپ اس سے مسلم لیگ کو مضبوط کر رہے تھے۔ٹھیک ہے فائل کرا دیں اور آگے چلیں۔“ (صفحہ ۱۴۷) جناب اٹارنی جنرل نے جس انداز سے اس سوال سے جان چھڑائی اس سے اٹارنی جنرل کی یا تو دیانت مشتبہ ہو جاتی ہے یا ان کی ذہانت پر زد پڑتی ہے۔مجلس احرار اور کانگریسی علماء بلکہ بعض مسلم لیگی علماء بھی اس بات پر اصرار کر رہے تھے کہ احمدی مسلمان نہیں ہیں۔مسلم لیگ میں جب یہ سوال اٹھایا گیا کہ احمدی مسلم لیگ کے ممبر نہ بنائے جائیں تو قائد اعظم نے سختی سے اس بات کو دبا دیا۔لیکن مجلس احرار اور کانگریس کے ڈھنڈھور چی بدستور شور مچا رہے تھے اور اس صورت حال سے کانگریس بھر پور فائدہ اٹھانا چاہتی تھی ، اور یہ بات سمجھنے کے لئے بہت باریک بینی اور غیر معمولی ذہانت کی ضرورت نہیں ، اس وجہ سے مسلم لیگ ہائی کمان نے بٹالہ مسلم لیگ اور جماعت احمدیہ کو علیحدہ میمورنڈم داخل کرنے کی اجازت دی۔گورداسپور کے ضلع میں مسلم اکثریت بہت معمولی تھی اور کانگریس احمد یوں کو مسلمان شمار نہ کئے جانے میں کامیاب ہو جاتی تو وہ معمولی اکثریت بھی ختم ہو جاتی۔اس لئے اس بات کا ہر طرح سے یقینی بنایا جانا ضروری تھا تا کہ کوئی دور کا شائبہ بھی اس بات کا نہ رہ جائے کہ احمدیوں کو مسلمان شمار نہ کیا جائے۔چنانچہ احمدیوں نے قادیان کے لئے اپنا کلیم اس بنیاد پر داخل کیا کہ احمدی مسلمان ہیں اور قادیان مسلمانوں کی ایک فعال جماعت کا روحانی مرکز ہے اور دنیا بھر سے آنے والوں کا مرجع خلائق ہے۔اس کے علاوہ سکھوں کی طرف سے ننکانہ صاحب کی وجہ سے شیخو پورہ کا دعویٰ کیا جار ہا تھا۔بٹالہ مسلم لیگ کی طرف سے جو میمورنڈم داخل کیا گیا اس میں بٹالہ کی تاریخی اہمیت، بٹالہ کی مسلمان آبادی، بٹالہ کی مسلمان انڈسٹری اور بٹالہ تحصیل میں واقع قادیان کے ذکر میں لکھا۔اگر مذہبی مقامات اور زیارتوں کو زیر غور لانا ہے تو بٹالہ صدر پولیس سٹیشن میں واقع قادیان کا قصبہ خاص توجہ کا مستحق ہے۔6 مسلمانوں میں سے احمدی مرزا غلام احمد کو نبی تصور کرتے ہیں۔