احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں — Page 17
جواب :۔یہ بات خود اس بیان سے ظاہر ہے کہ میں ان لوگوں کو جو میرے ذہن میں ہیں مسلمان سمجھتا ہوں۔پس جب میں ” کا فر“ کا لفظ استعمال کرتا ہوں تو میرے ذہن میں دوسری قسم کے کافر ہوتے ہیں جن کی میں پہلے ہی وضاحت کر چکا ہوں یعنی وہ جو ملت سے خارج نہیں۔جب میں کہتا ہوں کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں تو میرے ذہن میں وہ نظریہ ہوتا ہے جس کا اظہار کتاب مفردات راغب کے صفحہ ۲۴۰ پر کیا گیا ہے۔جہاں اسلام کی دو قسمیں بیان کی گئی ہیں۔ایک دُونَ الْاِیمان اور دوسرے فَوقَ الْإِيمان۔دُوْنَ الْإِیمان میں وہ مسلمان شامل ہیں، جن کے اسلام کا درجہ ایمان سے کم ہے۔فَوقَ الْإِيمان میں ایسے مسلمانوں کا ذکر ہے جو ایمان میں اس درجہ ممتاز ہیں کہ وہ معمولی ایمان سے بلند تر ہوتے ہیں۔اس لئے جب میں نے یہ کہا تھا کہ بعض لوگ دائرہ اسلام سے خارج ہیں تو میرے ذہن میں وہ مسلمان تھے جو دُونَ الْإِیمان کی تعریف کے ماتحت آتے ہیں۔مشکوۃ میں بھی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص کسی ظالم کی مدد کرتا اور اس کی حمایت کرتا ہے وہ اسلام سے خارج ہے۔امام راغب کے جس قول کا حوالہ دیا جا رہا ہے وہ یہ ہے۔(تحقیقاتی عدالت میں جماعت احمدیہ کا بیان) وَالإسلام فى الشرع على ضَرْبَيْنِ : - احَدُهُما دُونَ الايمان وَهُوَ الاعتراف باللسان و به يُحقَنُ الدَّمُ حَصَلَ معه الاعتِقَادُ أولم يُحصل وايَّاهُ قُصِدَ بقوله قالتِ الاعرابُ آمَنَّاقُلُ لَم تُؤْمِنُوا وَلكِنْ قُولوا أَسْلَمْنَا۔والثاني فَوقَ الايمان وهو أنْ يَكُون مَعَ الاِعْتَرَافِ اعتقاد بِالقَلبِ ووفاء" بالفعل۔واستسلام للهِ فِي جَميعِ ما قَضَىٰ وَقدَرَ كَمَاذُكِرَ عَنْ ابراهيم عليه السلام فى قوله اذ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمُ قَالَ أَسْلَمْتُ لَرَبِّ العالمين - المفردات في غريب القرآن از علامه راغب اصفهانی، مطبوعه 1961 اصح المطابع، آرام باغ فريئر روڈ ، کراچی۔صفحه ۲۴۰) یعنی ایک زبانی اقرار کا نام ہے جس کے ذریعے انسان اصطلاحاً دائرہ اسلام میں آجاتا ہے اور اس کے بارے میں امام راغب یہ کہتے ہیں کہ اس اقرار زبانی کے ساتھ اعتقاد شامل ہو یا نہ ہو ایسا اقرار زبانی کرنے والا ” دُونَ الْإِيمان “دائرہ اسلام میں شامل ہو جاتا ہے اور اس کے نتیجہ میں اس کا خون محفوظ ہو جاتا ہے۔اور اس بات کی تائید میں امام راغب سورۃ الحجرات کی قرآنی آیت لائے ہیں اپنی طرف سے بات نہیں کی۔سورۃ الحجرات کی آیت کا ترجمہ یوں ہے۔”بد و کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے آپ ان سے کہ دیجئے کہ تم ایمان نہیں لائے ہو لیکن یہ کہو کہ ہم اسلام لے آئے ہیں۔اس کو دُونَ الْإِیمان “اسلام کہا گیا۔یعنی دائرہ اسلام میں تو ہے مگر اسلام کی حقیقی معرفت کو نہیں پہنچا۔اور جسے امام راغب ” فَوقَ الْإِيمَان “ کہتے ہیں۔جس کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ وہ اقرار زبانی کے علاوہ قلبی اعتقاد اور فعلی و فامکمل طور پر خدا کے قضا و قدر میں خود سپردگی کا نام ہے۔یہ اصل اسلام ہے جس کو فوق الایمان “ کہا اور یہ بات بھی امام راغب نے خود نہیں کہہ دی اس کے لئے بھی حضرت ابراھیم کے قول کی مثال قرآن شریف سے دی اور پھر متعدد آیات قرآن شریف کی اس تائید میں لائے کہ ” فَوقَ الْاِیمان“ والے مسلمان تو وہ ہیں جو شیطان کے چنگل سے آزاد ہوں، مکمل طور پر راضی بہ رضا ہوں اور یہ ایک ایسی واضح اور بد یہی بات ہے کہ اس کو اصطلاحات کی باریکیوں سے الگ کر کے بھی با آسانی سمجھا جا سکتا ہے۔یہ کون نہیں جانتا کہ ہر مسلمان اپنے ادعا اور خواہش کے باوجود حقیقی اسلام کے تقاضوں کو پورا نہیں کر پاتا۔قدم لڑکھڑاتے بھی ہیں اور سنبھل بھی جاتے ہیں۔گناہ سرزد بھی ہو جاتے ہیں۔عرق انفعال اور ندامت بھی دامنگیر ہوتی ہے۔اسلام کے حقیقی تقاضوں کو پورا نہیں کر رہا ہوتا لیکن یہ تو نہیں کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو گیا۔ہر چند کہ شیطان کے بہکاوے میں آجاتا ہے۔ایسے افعال کر بیٹھتا ہے جو کفر کے مترادف ہوتے ہیں لیکن پھر بھی مسلمان ہی رہتا ہے۔یہ دائرہ اسلام دُونَ الْإِیمان ہے۔ایسا شخص مسلمان ہے، امت کا فرد ہے۔گناہگار ہے، ایسے افعال کر بیٹھتا ہے جن سے شرک یا کفر لازم آجاتا ہے، غیر اللہ کے آگے حقیقی یا معنوی رنگ میں سجدہ ریز بھی ہو جاتا ہے، قبروں پر ماتھا جانیکتا ہے مگر خود کو مسلمان کہتا ہے۔دائرہ اسلام میں تو ہے مگر دُونَ الْإِیمان ہے، حقیقی اسلام تو نہیں۔فَوقَ الایمان کی کیفیات کا تو کیا کہنا۔یہ ایسی بات تو نہیں جو سمجھ میں نہ آتی ہو۔ہر مسلمان اس بات کو جانتا ہے کہ وہ مسلمان تو ہے لیکن اسلام کے تقاضوں کو پورا نہیں کر پارہا۔مگر ایسا شخص دائرہ اسلام سے تو خارج نہیں۔فقہاء کی اصطلاح میں دُونَ الْاِیمان اسلام ہے۔لہذا احمد یہ ٹیچر میں جہاں بھی مسلمانوں کو کافر کہا گیا وہ اس ” کفر کم تر از کفر“ کے معنوں میں کہا گیا اور اس بات کو امام جماعت احمدیہ نے تفصیل سے بیان کیا اور جناب اللہ وسایا ان تفصیلات کو حذف کر کے اجمال“ کی نقاب اوڑھے ہوئے یہ