احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں — Page 16
اٹارنی جنرل کل مسلمان جو مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے مسیح موعود کا نام نہ سُنا ہو، وہ بھی کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔مرزا ناصر : کفر کے دو ستم بتائے ہیں، ایک یہ بھی ہے۔یہی بات انہوں نے منیر کمیشن میں کہی تھی کہ وہ سیاسی کا فر ہوں گئے۔( صفحہ ۵۸) آگے چل کر اٹارنی جنرل پھر اسی موضوع کی طرف لوٹتے ہیں: اٹارنی جنرل : جو شخص ملت اسلامیہ میں ہے آپ کے اعتقاد کے مطابق وہ دائرہ اسلام میں بھی ہے۔لیکن جو دائرہ اسلام میں ہے، وہ ہر شخص ملت اسلامیہ میں نہیں ، گویا ایک شخص دائرہ اسلام سے خارج ہے مگر اس کے باوجود وہ مسلمان ہے؟ مرزا ناصر : اس کے باوجود مسلمان ہے۔اٹارنی جنرل : گویا کافر بھی ہے اور مسلمان بھی؟ مرزا ناصر : بعض جہت سے کا فر اور بعض سے مسلمان‘۔(صفحہ) ۲۹ پھر اسی مضمون کی طرف لوٹتے ہوئے اٹارنی جنرل کہتے ہیں۔” اٹارنی جنرل: رابطہ عالم اسلامی میں دُنیا بھر کے نمائندے ہیں۔انہوں نے آپ کو کا فرکہا۔مرزا ناصر : وہ تو نامزدلوگ ہوں گے۔میں کہتا ہوں کہ اقوام متحدہ یا کوئی دُنیا کا منتخب ادارہ بھی ہمارے گھر پر متفق ہو جائے تو پھر بھی میں سمجھوں گا کہ اس معاملہ کو خدا پر چھوڑتے ہیں۔اٹارنی جنرل: دیکھئے اقوام متحدہ یا کسی اور کے فیصلہ پر تو صاد کر کے صرف خدا کی عدالت میں اپیل کا کہتے ہیں، لیکن مسلمانوں کا ادارہ پاکستان کی نیشنل اسمبلی یا رابطہ، فیصلہ کریں تو آپ اسے صاد نہیں کرتے ؟ مرزا ناصر : میں نے کہا کہ میں اقوام متحدہ کے فیصلہ پر بھی معاملہ خدا پر چھوڑوں گا، یہ کہ اسے بھی صحیح نہیں سمجھتا۔اٹارنی جنرل : پھر اگر آپ پوری دنیا کے فیصلہ کو بھی نہیں مانتے تو ان کے فیصلہ کرنے کا کیا فائدہ۔نیز یہ کہ آپ پوری دُنیا کے کسی بھی متفقہ فیصلہ کو، جو آپ کے خلاف ہو نہیں مانتے۔پھر تو بات ہی ختم ہوگئی۔آپ صرف مسلمانوں سے نہیں بلکہ پوری دُنیا سے الگ ہیں ان معنوں میں؟ مرزا ناصر : میرا دل نہیں مانتا تو وہ میں کیسے کروں گا“۔(صفحہ ۷۲) یہ اقتباسات جو جناب اللہ وسایا کی شائع شدہ کارروائی سے نقل کئے گئے ہیں ان کے بارے میں ہم ہرگز تسلیم نہیں کر رہے کہ یہ مکالمہ اس طرح سے ہوا۔اس کا رروائی میں خود ایسے اشارے موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ضروری تفصیلات کو حذف کر دیا گیا ہے، مثلاً منیر انکوائری کمیشن میں اسی مسئلہ پر دیئے گئے جواب کا ذکر ہے مگر وہ جواب کا رروائی میں نہیں۔امام جماعت کے جواب ایک ایک فقرے میں ظاہر کئے گئے ہیں، کارروائی کے کئی حصے ایسے بھی ہیں جہاں یہ محسوس ہوتا ہے کہ کارروائی میں سے جواب کا اصل اور مؤثر حصہ حذف کر دیا گیا ہے۔مگر ایک بات بالکل واضح ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب سارا زور اس بات پر لگارہے ہیں اور اپنی ساری صلاحیتیں امام جماعت سے یہ کہلوانے کی خاطر بروئے کارلارہے ہیں کہ سارے مسلمان دائر کا اسلام سے خارج ہیں اور امام جماعت احمد یہ کسی صورت بھی یہ نہیں کہہ رہے۔اٹارنی جنرل بار بار اسی مضمون کو چھیڑتے ہیں اور اس بات پر حیرانی کا اظہار کر رہے ہیں کہ کوئی شخص گویا کا فر بھی ہے مسلمان بھی ہے اور مرزا ناصر احمد پھر یہی فرماتے ہیں کہ بعض جہات سے کا فر اور بعض سے مسلمان۔اور مرزا ناصر احمد صاحب بار بار دائرہ اسلام اور ملتِ اسلامیہ میں سے خارج ہونے کے فرق کو نمایاں کرتے ہیں۔منیر انکوائری کا ذکر کیا گیا ہے کہ اس میں آئینہ صداقت صفحہ ۳۵ کے حوالہ سے کوئی سوال پوچھا گیا، مگر اس سوال اور نخوا جمال کی تفصیل پرڈالی ویا یا صاد مہ و تفصیل منیر انکوائری کمیشن کے حوالہ سے پیش کر رہے ہیں۔منیر انکوائری میں جماعت احمدیہ کے خلیفہ ثانی حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب سے پوچھا گیا۔سوال:۔کیا آپ اب بھی یہ عقیدہ رکھتے ہیں جو آپ نے کتاب ” آئینہ صداقت کے پہلے باب میں صفحہ ۳۵ پر ظاہر کیا تھا۔یعنی یہ کہ تمام وہ مسلمان جنہوں نے مرزا غلام احمد صاحب کی بیعت نہیں کی خواہ انہوں نے مرزا صاحب کا نام بھی نہ سُنا ہو وہ کافر ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج؟