احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں

by Other Authors

Page 14 of 42

احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں — Page 14

جماعت احمدیہ کے نزدیک مسلمان کی صرف وہی تعریف قابل قبول اور قابل عمل ہو سکتی ہے جو قرآن عظیم سے قطعی طور پر ثابت ہو اور آنحضرت ﷺ سے قطعی طور پر مروی ہوا اور آنحضرت ﷺ اور خلفائے راشدین کے زمانہ میں اُس پر عمل ثابت ہو۔اس اصل سے ہٹ کر مسلمان کی تعریف کرنے کی جو بھی کوشش کی جائے گی وہ رخنوں اور خرابیوں سے مبرا نہیں ہوگی بالخصوص بعد کے زمانوں (جبکہ اسلام بٹتے بٹتے بہتر فرقوں میں تقسیم ہو گیا) میں کی جانے والی تمام تعریفیں اس لئے بھی رڈ کرنے کے قابل ہیں کہ اُن میں آپس میں تضاد پایا جاتا ہے اور بیک وقت اُن سب کو قبول کرنا ممکن نہیں اور کسی ایک کو اختیار کرنا اس لئے ممکن نہیں کہ اس طرح ایسا شخص دیگر تعریفوں کی رُو سے غیر مسلم قرار دیا جائے گا اور اس دلدل سے نکلنا کسی صورت میں ممکن نہیں رہے گا۔“ کیا یہ درست نہیں کہ ان تنقیحات اور بنیادی سوالات کا کوئی جواب بن نہیں پڑا تو ” مسلمان“ کی تعریف کے مطالبے سے ہی دستبردار ہو گئے؟ چوتھا سوال : ہمارا چوتھا سوال یہ ہے کہ اللہ وسایا صاحب کی کتاب میں مسلمان کی تعریف کے بارے میں ان تنقیحات پر کوئی بحث یا جرح کیوں نہیں ؟ کیا ان پر جرح کی ہی نہیں گئی؟ اگر جرح کی گئی تو اسے شائع کیوں نہیں کیا گیا ؟ یہ ہو نہیں سکتا کہ ان پر جرح کر کے، بقول اللہ وسایا صاحب، مرزا ناصر احمد صاحب کو ” چاروں شانے چت گرایا ہو اور اللہ وسایا صاحب یہ کارنامہ عوام کے سامنے نہ لائیں۔انہوں نے راہ فرار اختیار کر کے خدا اور اس کے رسول کے ارشادات سے روگردانی کی ہے۔اس سوال پر جماعت احمدیہ کے محضر نامہ کا متعلقہ حصہ اہل نظر کے لیئے ایک پڑھنے کی چیز ہے۔مطبوعه الفضل انٹر نیشنل ۵ را پریل ۲۰۰۲ تا ۱۱ را پریل ۶۲۰۰۲) (تیسری قسط) (۷) اٹارنی جنرل کی مشکل " کفر کم تر از کفر" مولوی حضرات ہمیشہ یہ کہ کر مسلمانوں کو اشتعال دلاتے ہیں کہ احمدی مسلمانوں کو کافر اور دائرہ اسلام اور امت مسلمہ سے خارج تصور کرتے ہیں۔جماعت احمدیہ کا موقف بڑا واضح ہے اور اُمت کے سابقہ بزرگوں کے مؤقف سے مطابقت رکھتا ہے۔اس موضوع پر ساری کارروائی میں سے تفصیلات کو حذف کر دینا ایک بہت بڑی بددیانتی ہے۔مگر جو کارروائی جناب اللہ وسایا نے شائع کی اس کے مطالعہ سے بھی احمدیوں کا موقف بڑی آسانی سے سمجھ آ سکتا ہے۔امام جماعت کا موقف کیا تھا، اٹارنی جنرل کیا کہ رہے تھے، امام جماعت کے موقف کی بنیاد کی تھی ، یہ سب اس کارروائی سے کافی حد تک واضح ہو جاتا ہے اور یہ سمجھنے میں قطعاً کوئی مشکل پیش نہیں آتی کہ اللہ وسایا کو اس اجمال اور قطع و برید کی ضرورت کیوں پیش آئی۔جرح کے بعد اپنی بحث کے دوران اٹارنی جنرل نے کہا:۔جناب والا! اب میں دوسرے موضوع کی طرف آتا ہوں جو زیادہ اہم ہے میں نکات ۴، ۵ کو اکٹھا لوں گا۔یہ نکات یہ ہیں ” مرزا صاحب کے نبوت کے دعوی کو نہ ماننے کے اثرات اور اس دعوئی کے مسلمانوں پر اثرات اور ان کا رد عمل۔اس موضوع پر معروضات پیش کرنے سے قبل میں یہ کہنا چاہوں گا کہ مرزا ناصر احمد کے ساتھ مجھے خاصی دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔“ (صفحه ۳۰۵) حضرت امام جماعت احمدیہ کے بارے میں اٹارنی جنرل نے کہا:۔مرزا ناصر احمد نے اپنے والد بشیر الدین محمود احمد کی جگہ بطور خلیفہ سوئم جماعت احمدیہ، ۱۹۶۵ء میں عہدہ سنبھالا اور وہ قادیانی (ربوہ) گروپ کے سر براہ ہیں۔وہ 1909 ء میں پیدا ہوئے۔وہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور سلجھے ہوئے انسان ہیں۔مؤثر شخصیت کے مالک ہیں۔ایم۔اے۔(آکسفورڈ ) عربی، فارسی اور اُردو کے بہت بڑے عالم ہیں۔دینی معاملات پر گہری دسترس رکھتے ہیں۔(صفحہ ۳۰۶)