احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں

by Other Authors

Page 13 of 42

احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں — Page 13

کی حیثیت متعین کر کے انہیں خارج از دائرہ اسلام قرار دے۔تیسر اسوال: موصوف کی کتاب ” تحریک ختم نبوت جلد دوئم کے باب چہارم میں جو مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ کے اجلاسوں کی کارروائیاں درج کی گئی ہیں اس میں ۱۹۵۶ء کی مرکزی مجلس کے اجلاس مورخہ ۱۲ فروری کی کارروائی میں جو قرار داد منظور کی گئی اس میں مطالبہ یہ تھا کہ۔یہ اجلاس مجلس دستور ساز سے پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے اس اعلان کی روشنی میں مسلمان کی تعریف کرے۔“ اللہ وسایا صاحب سے ہمارا تیسرا سوال یہ ہے کہ ۳۰ /جون ۱۹۷۴ ء کو جو قرارداد حزب اختلاف کی طرف سے ۳۷ را فراد کے دستخطوں سے پیش کی گئی اس میں آئین میں مسلمان کی تعریف کرنے کا مطالبہ کیوں ترک کر دیا گیا ؟ کیا اس کی وجہ یہ نہیں کہ اس بارے میں امام جماعت احمدیہ نے جو سات عدد تنقیحات وضع فرما دی تھیں ان کی روشنی میں ایسا کرنا ناممکن تھا اور انہوں نے آپ کے لئے کوئی راہ فرار نہیں چھوڑی تھی۔اور یہ ہو نہیں سکتا تھا کہ ان سوالات پر کوئی غور کرے اور مسلمان کی تعریف کے بارہ میں وہ رویہ نہ اپنائے جو جماعت احمدیہ نے تحریری بیان میں اختیار کیا، جو یہ تھا:۔دنیا بھر میں یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ کسی فرد یا گروہ کی نوع معین کرنے سے قبل اس نوع کی جامع و مانع تعریف کر دی جاتی ہے جو ایک کسوٹی کا کام دیتی ہے اور جب تک وہ تعریف قائم رہے اس بات کا فیصلہ آسان ہو جاتا ہے کہ کوئی فرد یا گر وہ اس نوع میں داخل شمار کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔اس لحاظ سے ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ اس مسئلے پر مزید غور سے قبل مسلمان کی ایک جامع و مانع متفق علیہ تعریف کی جائے جس پر نہ صرف مسلمانوں کے تمام فرقے متفق ہوں بلکہ ہر زمانے کے مسلمانوں کا اس تعریف پر اتفاق ہو۔اس ضمن میں مندرجہ ذیل تنقیحات پر غور کرنا ضروری ہوگا۔(الف) کیا کتاب اللہ یا آنحضرت ﷺ سے مسلمان کی کوئی تعریف ثابت ہے جس کا اطلاق خود آنحضرت کے زمانے میں بلا استثناء کیا گیا ہو؟ اگر ہے تو وہ تعریف کیا ہے؟ (ب)۔۔۔۔۔کیا اس تعریف کو چھوڑ کر جو کتاب اللہ اور آنحضرت نے فرمائی ہو اور خود آنحضور کے زمانہ مبارک میں اس کا اطلاق ثابت ہو، کسی زمانہ میں بھی کوئی اور تعریف کرنا کسی کے لئے جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟ (ج) مذکورہ بالا تعریف کے علاوہ مختلف زمانوں میں مختلف علماء یا فرقوں کی طرف سے اگر مسلمان کی کچھ دوسری تعریفات کی گئی ہیں تو وہ کونسی ہیں؟ اور اول الذکر شق میں بیان کردہ تعریف کے مقابل پر ان کی کیا شرعی حیثیت ہوگی؟ (د)۔۔۔حضرت ابوبکر صدیق کے زمانہ میں فتنہ ارتداد کے وقت کیا حضرت ابوبکر صدیق یا آپ کے صحابہ نے یہ ضرورت محسوس فرمائی کہ آنحضور کے زمانے میں رائج شدہ تعریف میں کوئی ترمیم کریں۔) کیا زمانہ تبوی یا زمانہ خلافت راشدہ میں کوئی ایسی مثال نظر آتی ہے کہ کلمہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللَّه کے اقرار کے اور دیگر چار ارکانِ اسلام یعنی نماز زکوۃ روزہ اور حج پر ایمان لانے کے باوجود کسی کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہو؟ (س)۔۔۔۔۔۔اگر اس بات کی اجازت ہے کہ پانچ ارکانِ اسلام پر ایمان لانے کے باوجود کسی کو قرآن کریم کی بعض آیات کی ایسی تشریح کرنے کی وجہ سے جو بعض دیگر فرقوں کے علماء کو قابل قبول نہ ہو، دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جائے یا ایسا عقیدہ رکھنے کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا جائے جو بعض دیگر فرقوں کے نزدیک اسلام کے منافی ہے تو ایسی تشریحات اور عقائد کی تعیین بھی ضروری ہوگی تاکہ مسلمان کی مثبت تعریف میں یہ شق داخل کر دی جائے کہ پانچ ارکانِ اسلام کے باوجوداگر کسی فرقہ کے عقائد میں یہ یہ امور داخل ہوں تو وہ دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جائے گا۔“ اس کے بعد محضر نامہ میں پرزور اپیل کی گئی تھی کہ :۔اگر حقیقتا عقل اور انصاف کے تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسلام میں جماعت احمدیہ کی حیثیت پر غور فرما نا مقصود ہے یا اسلام میں آیت خاتم النبیین کی کسی تشریح کے قائل ہونے والے کسی فرد یا فرقہ کی حیثیت کا تعین کرنا مقصود ہے تو پھر ایسا پیمانہ تجویز کیا جائے جس میں ہر منافی اسلام عقیدہ رکھنے والے کے کفر کو ماپا جاسکتا ہو اور اس پیمانہ میں جماعت احمدیہ کے لئے بہر حال کوئی گنجائش نہیں۔اور مزید یہ کہا گیا تھا کہ:۔