احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں — Page 10
حوالے ختم نبوت کے مفہوم کے بارہ میں جماعت احمدیہ کی طرف سے دیئے گئے ، ان میں سے کوئی حوالہ غلط ہے۔ختم نبوت کا عقیدہ بحث میں ایک بنیادی حیثیت رکھتا تھا مگر آیت خاتم النبین ﷺ کے سلسلے میں جو حوالے جماعت احمدیہ کے محضر نامے میں دیئے گئے تھے ان میں سے کسی ایک پر بھی بحث نہیں کی گئی۔یہ علماء حضرات موجود نہ ہوتے تو یہ وہم گزرسکتا تھا کہ اٹارنی جنرل اس میدان کے شناور نہیں لہذا وہ سوالات رہ گئے ہوں۔مگر یہاں تو نہ صرف یہ کہ علماء موجود تھے بلکہ وہ اسمبلی میں بیٹھے ہوئے واضح طور پر موئے آتش دیدہ کی طرح بل کھاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ادھر مرزا ناصر احمد ہیں کہ وہ نہایت تحمل اور بردباری سے پورے ٹھہراؤ کے ساتھ حوالوں کی جانچ پڑتال کر کے پوری وضاحتوں کے ساتھ حوالے دیتے ہوئے دکھائی ہیں۔ممکن نہیں ہے کہ مولوی حضرات نے آیت خاتم النبین ﷺ کے بارے میں مرزا ناصر احمد سے کوئی سوال پوچھے ہوں اور ان کو لا جواب کر دیا ہو تواللہ وسایا اس حصے کو شائع نہ کریں۔دیتے (۴) اللہ وسایا کی کتاب سے یہ بھی ظاہر ہے کہ وضاحتیں اور تفصیلات غائب کر دی گئی ہیں مثلاً :۔(i) صفحہ ۱۳۹ پر اٹارنی جنرل کے اس سوال کے جواب میں کہ کلمتہ الفصل کے اقتباس کے حوالہ سے حقیقی مسلمان کی تعریف کیا ہے، مرزا ناصر احمد صاحب کا مختصر جواب ایک فقرہ میں درج ہے مگر جو حوالہ وہ دے رہے ہیں وہ غائب ہے۔(ii) صفحہ ۵۸ پر منیر انکوائری رپورٹ میں آئینہ صداقت کے حوالہ سے، مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے جواب کا ذکر ملتا ہے اور اس بارہ میں جرح بھی کی گئی ہے مگر مرزا ناصر احمد صاحب کا جواب ایک فقرہ میں درج کر کے منیر انکوائری رپورٹ میں دیئے گئے جواب کو غائب کر دیا گیا ہے تاکہ زیر بحث مسئلہ پر جماعت احمدیہ کا موقف واضح نہ ہو سکے۔(ii) صفحہ ۲۸۷ پر اٹارنی جنرل کا بیان ہے کہ مرزا ناصر احمد صاحب نے زیر اعتراض ایک شعر کی وضاحت اسی نظم کے ایک دوسرے شعر سے کرنے کی کوشش کی مگر وہ وضاحتی شعر کارروائی اور جرح کے دوران کہیں نظر نہیں آتا۔آخر کیوں ؟ پھر یہ کمل ریکا رڈیا اکمل کا رروائی کیسے ہوئی۔(iv) اللہ وسایا کی شائع شدہ کارروائی میں بار بار یہ اعتراض نظر آتا ہے کہ جواب لمبا ہے، مختصر کرنے کی ہدایت کی جائے مگر کوئی ایک لمبا جواب بھی کارروائی میں نظر نہیں آتا سب غائب کر دئیے گئے۔کوئی ایک جواب تو درج ہوتا جس سے پتہ لگ سکتا که غیر ضروری طوالت سے کام لیا جارہا ہے۔(۷) ان مولوی حضرات کا تلملانا کہ جواب مختصر دیا جائے ہم خطبہ سنے نہیں آئے ، وضاحتوں سے روکا جائے ، ہاں یا نہ میں جواب دیں، ان کو پابند کیا جائے کہ جواب ہاں یا نہ تک محدود رکھیں۔یہ بیٹھ کر کیوں جواب دے رہے ہیں، یہ بھی کھڑے ر ہیں اور جواب دیں۔یہ سب باتیں ان مولوی حضرات کی پریشانی اور اضطراب کی آئینہ دار ہیں جو اللہ وسایا کی کتاب سے جھلکتے انہی دنوں جناب مفتی محمود صاحب نے کراچی کے ایک استقبالیہ میں قومی اسمبلی کی کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا اسمبلی میں قرار داد پیش ہوئی اور اس پر بحث کے لئے پوری اسمبلی کو کمیٹی کی شکل دے دی گئی۔کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا کہ مرزائیوں کی دونوں جماعتیں خواہ لاہوری ہوں یا قادیانی ان کو اسمبلی میں بلایا جائے اور ان کا موقف سنا جائے تاکہ کل اگران کے خلاف فیصلہ کر دیا جائے تو وہ دنیا میں اور بیرونی ممالک میں یہ نہ کہیں کہ ہم کو بلائے بغیر اور موقف سنے بغیر ہمارے خلاف فیصلہ کر دیا گیا ہے۔بطور اتمام حجت کے ان کا موقف سننا ہمارے لئے ضروری تھا اس لئے ان کو بلایا گیا۔جب انہوں نے اپنے بیانات پڑھے تو ان پر تیرہ دن بحث ہوئی گیارہ دن مرز اناصر پر اور دودن صدر الدین پر جرح ہوئی۔اس میں شبہ نہیں کہ جب انہوں نے اپنا بیان پڑھا تو مسلمانوں کے باہمی اختلاف سے فائدہ اُٹھایا اور یہ ثابت کیا کہ فلاں فرقے نے فلاں پر کفر کا فتوی دیا ہے اور فلاں نے فلاں کی تکفیر کی ہے۔مسلمانوں کے باہمی اختلاف کولے کر اسمبلیوں کے ممبران کے دل میں یہ بات بٹھا دی کہ مولویوں کا کام ہی صرف یہی ہے کہ وہ کفر کے فتوے دیتے ہیں یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں جو کہ صرف قادیانیوں سے متعلق ہو۔یہ انہیں تا ثر دیا۔اس میں شک نہیں کہ ممبران اسمبلی کا ذہن ہمارے موافق نہیں تھا، بلکہ ان سے متاثر ہو چکا تھا تو ہم بڑے پریشان تھے چونکہ ارکان اسمبلی کا ذہن بھی متاثر ہو چکا تھا اور ہمارے ارکان اسمبلی دینی مزاج سے بھی واقف نہ تھے اور خصوصاً جب اسمبلی ہال