اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 69 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 69

ازواج النبی 69 حضرت عائشہ سنجیدگی اور تکلف پیدا کر سکتا تھا مگر فی الواقعہ ایسا نہیں ہوا۔آپ نے حضرت عائشہ کی دل لگی اور ناز برداری کے لئے کبھی کوئی جائز کسر اٹھانہ رکھی۔دوڑ کا مقابلہ آنحضرت علی ایم کا حضرت عائشہ کے ساتھ ایسا ہی پر شفقت، بے تکلفی کارہن سہن تھا جس سے آپ نے ان کا دل جیت لیا۔آپ ان کی جائز خواہشات اور نو عمری کے سارے چاؤ پورے کرتے تھے۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ ایک سفر میں حضرت نبی اکرم طلم نے فرمایا کہ عائشہ ! آپ میرے ساتھ دوڑ لگانا چاہتی ہو۔پھر باہم دوڑ کا مقابلہ ہو اوہ فرماتی ہیں کہ میں دبلی پتلی تھی دوڑ میں آگے نکل گئی۔اب کیا معلوم حضوراکرم علیم نے خود انہیں حوصلہ افزائی کی خاطر یہ موقع دیا یا حضرت عائشہ اپنے دبلے پن کی وجہ سے آگے بڑھ گئیں مگر کچھ عرصہ بعد ایک اور موقع پر حضور نے ان سے فرمایا کہ چلو پھر دوڑ کا مقابلہ ہو جائے۔تب وقت گزرنے کے باعث حضرت عائشہ کا وزن بھی کچھ بڑھ چکا ہو گا۔بہر حال اس مرتبہ آنحضرت طی یتیم آگے بڑھ گئے اور اس مرتبہ آپ نے حضرت عائشہ کو باور کروایا کہ یہ اس دوڑ کا بدلہ ہو گیا جو پہلے تم نے جیتی تھی۔اور یوں شگفتگی و مزاح کی ایک نئی کیفیت پیدا کر دی۔19 جنگوں میں شرکت رسول کریم نیم کا ازواج کو جنگی کرتب دکھانے اور دوڑ کا مقابلہ کرنے میں ایک اور گہری حکمت یہ نظر آتی ہے کہ وہ حسب ضرورت مشکل حالات کا مقابلہ کر سکیں۔چنانچہ جنگوں میں پہلی دفعہ رسول اللہ علی می کنیم نے خواتین سے زخمیوں کو پانی پلانے اور نرسنگ کی خدمات لینے کی پاکیزہ بنیاد ڈالی۔قدیم زمانہ میں رواج تھا کہ جنگ میں مردوں کا حوصلہ بڑھانے، رنگ و طرب کی محفلیں سجانے اور دل بہلانے کیلئے عور تیں بھی شریک جنگ ہوتی تھیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کا جو نقدس اور احترام قائم فرمایا اس لحاظ سے آپ کو یہ طریق سخت ناپسند تھا کہ عورت مردوں کے ہاتھ میں محض کھلونا بن کر رہ جائے۔خیبر کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور خاص کچھ خواتین کو زخمیوں کی مرہم پٹی، تیار داری اور دیکھ بھال کیلئے ساتھ چلنے کی اجازت فرمائی۔آنحضرت امیم کے اس پاکیزہ خیال کو ایک فرانسیسی عیسائی سوانح نگار یوں بیان کرتا ہے :۔