اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 55 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 55

ازواج النبی 55 حضرت سوده رض حضرت سودہ نے رسول اللہ صل علی کی کمی سے پانچ احادیث روایت کی ہیں۔جن میں سے دو احادیث بخاری اور مسلم میں اور دیگر ابوداؤد اور نسائی میں مذکور ہیں۔حضرت ابن عباس اور بیٹی بن عبد الرحمن ان سے روایت کرتے ہیں۔صحت کی کیفیت وھ میں آنحضور طی ایام حج کے ارادہ سے نکلے تو باوجودیکہ حضرت سودہ اپنی عمر کی مناسبت سے بھاری بدن کے باعث کمزوری اور سست روی کا شکار ہو گئی تھیں مگر اس کے باوجو در سول کریم این یتیم کے ساتھ شوق سے شریک سفر ہوئیں اس موقع پر انہوں نے مزدلفہ کی رات آنحضرت یہی ہم سے یہ درخواست کی تھی کہ یارسول الله علیم عام لوگ جو علی الصبح مزدلفہ سے واپس لوٹتے ہیں اس وقت ہجوم بہت زیادہ ہوتا ہے۔میرے لئے اس میں چلنا مشکل ہو گا اس لئے مجھے باقی لوگوں سے پہلے مزدلفہ سے واپسی کی اجازت عطا فرما دیں۔حضور علی علی کریم نے معذوری کے باعث انہیں اجازت عطا فرما دی اور حضرت سودہ رات کو ہی مزدلفہ واپس لوٹ آئیں جب کہ باقی لوگ صبح کے وقت مزدلفہ آئے۔22 اس طرح حضرت سودہ کی برکت سے امت کے کمزوروں اور معذوروں کے لئے رحمت و وسعت کے سامان ہو گئے۔چنانچہ حضرت سودہ کے اس رخصت لینے کے بعد جب بعض اور حاجیوں نے سر منڈوانے ، قربانی کرنے اور رمی حجار جیسے مناسک حج کی ترتیب آگے پیچھے ہو جانے کا ذکر کیا تو حضور نے از راہ شفقت اس میں رخصت دیتے ہوئے فرمایا کہ اس میں حرج نہیں۔رسول کریم میم کی زندگی کے آخری سالوں میں حضرت سودہ نے اپنے بڑھاپے ، کمزوری اور بیماری کے باعث محسوس کیا کہ وہ اپنی عائلی ذمہ داریاں کما حقہ حضور کے پاس رہ کر ادا نہیں کر سکتیں اور عمر کے اس حصے میں انہیں ازدواجی تعلقات کی حاجت نہیں رہی، مگر یہ دلی تمنا ضرور تھی کہ آنحضرت سے جو بابرکت نسبت اور تعلق ہے وہ تادم حیات قائم رہے اور اپنی کسی معذوری و بیماری کے باعث رسول اللہ علیم سے ان کا تعلق علیحدگی پر منتج نہ ہو۔اس اندیشہ کی بناء پر انہوں نے آنحضور می ی ی یتیم کی خدمت میں یہ عرض کیا کہ یارسول اللہ علی میرا تم مجھے دیگر ازواج سے مقابلے کی تو کوئی تمنا نہیں۔ہاں یہ خواہش ضرور ہے کہ قیامت کے روز آپ