اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 48 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 48

ازواج النبی 48 حضرت سوده بعض دوسری روایات کے مطابق حضرت سکران حبشہ میں ہی وفات پاگئے تھے۔یوں حضرت سودہ نے 3 دین کی خاطر وطن چھوڑنے کی قربانی کے ساتھ ایک مہاجر صحابی کی بیوہ ہونے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔حضرت سکران سے حضرت سودہ کے ایک بیٹے عبدالرحمان تھے جو بعد میں ایران کی جنگ جلولاء میں 4 شہید ہوئے۔حضرت سودہ سے شادی حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد نبی کریم ملی علیم نے نبوت کے دسویں سال حضرت سودہ کے ساتھ نکاح فرمایا اور مکہ میں ہی ہجرت مدینہ سے پہلے شادی ہو گئی۔دراصل حضرت خدیجہ کی وفات سے آنحضرت لعلیم کی اہلی زندگی میں ایک خلاء کا پیدا ہونا طبعی امر تھا۔حضرت خدیجہ کی اولاد جو چار بیٹیوں پر مشتمل تھی، ان کے سنبھالنے اور گھر یلو انتظام و انصرام کیلئے حضور عالم کو ایک فکر لاحق رہتی تھی۔تنہائی اور اداسی کی ایک کیفیت تھی۔صحابہ بھی نبی کریم کی یہ تکلیف محسوس کرتے تھے۔ایک بزرگ صحابیہ حضرت خولہ بنت حکیم زوجہ حضرت عثمان بن مظعون نے آنحضور کی خدمت میں حاضر ہو کر کمال ادب اور جرات سے یہ گزارش کی کہ یارسول اللہ ! آپ حضرت خدیجہ کے بعد بہت تنہا اور اداس ہو گئے ہیں۔رسول کریم یہ کہ تم نے فرمایا، ہاں ! آخر وہ میرے بچوں کی ماں، گھر کی مالکہ اور نگران تھیں۔واقعی حضرت خدیجہ نے آنحضور ملی می ریم کے گھر کا نہایت احسن انتظام کیا ہوا تھا اور دینی فرائض اور ذمہ داریوں کی بجا آوری کے لئے آپ کو مکمل طور پر فارغ کر رکھا تھا۔ان کے بعد ایک کمی کا محسوس ہونا قدرتی امر تھا۔پھر مسلمانوں کی اجتماعی زندگی اور خواتین کی تعلیم و تربیت کے لحاظ سے بھی اس خلاء کا پُر کیا جانا بہت اہم تھا۔حضرت خولہ نے گویا مسلمانوں کی نمائندہ بن کر رسول کریم میم کی خدمت میں بعض تجاویز بھی رشتوں کے سلسلے میں پیش کیں۔حضور ملی تم نے نسبتاً ایک معمر بیوہ خاتون حضرت سودہ کی تجویز پسند فرمائی۔اس کے لئے سلسلہ جنبانی کی ذمہ داری حضرت خولہ ہی کے سپرد ہوئی۔چنانچہ وہ ان کے گھر گئیں۔پہلے تو خود حضرت سودہ سے رسول اللہ لی لی ایم کے رشتہ کی بات کی۔پھر حضرت خولہ ان کے والد کے پاس گئیں تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ "اس سے بہترین اور معزز رشتہ سودہ کے لئے اور کیا ہو سکتا ہے"