اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 39 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 39

ازواج النبی 39 حضرت خدیجہ رض کیا یارسول اللہ ! اگر اس بات کا یقین ہو تو میرے لئے قاسم کا یہ غم سہار نا آسان ہو جائے۔اس پر حضور علیم نے فرمایا " اگر آپ چاہیں تو تسلی کے لئے میں اللہ تعالی سے دعا کروں گا کہ وہ تمہیں اس کی آواز سنادے۔تاکہ یہ یقین ہو جائے کہ اس کی رضاعت کی تکمیل جنت میں ہورہی ہے۔یوں آپ کی تسلی کے سامان ہو جائیں گے۔حضرت خدیجہ نے کمال شرح صدر سے عرض کیا " یار سول اللہ صلی اتم ! میں اللہ اور اس کے رسول کی بات کو سچا مانتی اور اس کی تصدیق کرتی ہوں " 34 قبول اسلام کے بعد حضرت خدیجہ پر ایک آزمائش اپنی پیاری بیٹیوں کے رشتے ختم ہو جانے کی صورت میں بھی آئی۔آنحضرت علی علیم کے چا ابو لہب کے بیٹے عتبہ کا نکاح صاحبزادی حضرت رقیہ سے اور عتیبہ کا صاحبزادی حضرت ام کلثوم سے ہوا تھا۔دعویٰ نبوت کے بعد جب آنحضرت لم کی مخالفت بڑھی تو قریش نے ابو لہب کے بیٹوں کو حضرت خدیجہ کی بیٹیوں کی طلاق پر اکسایا اور ان دونوں نے رسول اللہ ایم کی دونوں صاحبزادیوں کو طلاق دے دی۔اپنی عزیز بیٹیوں کی تکالیف کا یہ ابتلاء بھی حضرت خدیجہ نے بڑے صبر واستقلال سے برداشت کیا وہ کبھی زبان پر بے صبری کا کوئی کلمہ نہیں لائیں۔اس سے حضرت خدیجہ کے کمال صبر کے ساتھ ان کے مضبوط ایمان اور کامل یقین کا بھی پتہ چلتا ہے کہ جو انہیں اللہ تعالی کی ذات اور رسول اللہ لی نیم کی وحی پر تھا چنانچہ نبی کریم پر مشکلات و مصائب میں جب رفتہ رفتہ اضافہ ہوتا گیا تو حضرت خدیجہ نے بھی آنحضرت علی علی کریم کے ساتھ کمال صبر اور استقامت سے ان کو برداشت کیا۔چنانچہ 7 نبوی سے شعب ابی طالب میں تین سالہ محصوری کا زمانہ حضرت خدیجہ نے بھی آنحضرت کے ساتھ سخت تکلیف اور صعوبت میں گزارا۔حالانکہ آپ ایک معزز خاندان کی بڑی مال دار خاتون تھیں اس ناز و نعمت کے مقابل پر انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی خاطر دکھوں اور اذیتوں کو قبول کرنا گوارا کر لیا مگر حق کو نہ چھوڑا اور آخر دم تک رسول اللہ صلی یا تم کا ساتھ دیا۔چنانچہ آنحضور علم نے حضرت خدیجہ کے فضائل بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت خدیجہ تمام عورتوں سے بہتر اور افضل ہیں۔35