اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 31
ازواج النبی 31 حضرت خدیجہ رض شام کے سفر میں تجارت میں اتنی برکت پڑی کہ اس سفر میں چار گنا منافع حاصل ہوا۔مزید برآں حضرت خدیجہ کو جب اپنے غلام سے آپ کی امانت و دیانت اور راست بازی کے علاوہ ، عیسائی راہب نسطور سے ملاقات اور اس کی خوش آئند باتوں کا پتہ چلا تو ان کے دل میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قدر و منزلت 6 بہت بڑھ گئی۔تاریخ میں حضرت خدیجہ کے قریبی خاندان کے جن مرد افراد کی موجودگی کا ذکر ملتا ہے ان میں ایک آپ کے چا عمر و بن اسد ہیں جن کی کوئی اولاد نہ تھی اور وہ کافی ضعیف العمر تھے۔دوسرے چازاد بھائی ورقہ بن نوفل۔اس کے علاوہ حضرت خدیجہ کے پانچ بھائیوں عوام ، حزام ، نوفل، عمرو، عدی اور تین بہنوں رقیقہ ،ہالہ اور ہند کا ذکر ملتا ہے ( بعض کے نزدیک ہالہ کا ہی دوسرا نام ہند تھا)۔خاندانی شرافت کے لحاظ سے عرب میں عورتوں کی عمومی کمزور حالت کے بر عکس حضرت خدیجہ صاحب حیثیت ہونے کی وجہ سے ایک خاص مقام رکھتی تھیں اور وہ اپنے معاملات میں با اختیار تھیں۔بے شک روایتی لحاظ سے ان کی شادی حضرت خدیجہ کے چا اور رسول اللہ علی علی کریم کے چا ابو طالب کے ذریعہ پایہ تکمیل کو پہنچی مگر اس سے قبل حضرت خدیجہ کی ایک راز دان سہیلی نفیسہ نے آنحضرت لعلیم سے ملاقات کر کے شادی کرنے کے بارہ میں آپ کا عندیہ معلوم کیا اور پھر حضرت خدیجہ کی تجویز کا ذکر کر کے ان کے ہاں رشتہ بھجوانے کی تحریک کی۔آپ نے حضرت خدیجہ کی پاکدامنی اور نیک شہرت کی وجہ سے یہ بات پسند فرمائی مگر نفیسہ سے بر ملا یہ اظہار کیا کہ حضرت خدیجہ کا تعلق چونکہ ایک مالدار اور معزز گھرانے سے ہے اس لئے شاید ان کے چچا عمرو کی رائے اس رشتہ کے حق میں نہ ہو۔نفیسہ نے یہ ذمہ داری اپنے سر لی اور حضرت خدیجہ کے ساتھ مشورہ کر کے رشتہ طے کروانے کا اہتمام کیا۔انہوں نے حضرت خدیجہ کے گھر میں ایک دعوت کا انتظام کر کے قریش کے رؤساء کو بلایا جن کی موجودگی میں حضرت خدیجہ کے چچا نے آنحضرت علی علیم کے ساتھ ان کے نکاح کی اجازت لی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر شادی کے وقت پچیس 25 سال اور معروف روایت کے مطابق حضرت خدیجہ کی عمر قریباً چالیس 40 برس تھی۔مگر ایک اچھے کھاتے پیتے گھرانے سے ہونے کی وجہ سے ان کی 8 صحت بہت اچھی تھی۔چنانچہ عمروں کے غیر معمولی تفاوت کے باوجود یہ رشتہ بہت کامیاب رہا۔رض