اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 329 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 329

اولاد النبی 329 حضرت امام حسین لڑتے ہوئے جان دے دی۔پھر مبارزت شروع ہوئی تو میدان کربلا میں تسلیم ورضا کے عجب قصے رقم ہوئے۔ایک ایک فدائی میدان میں اترنے سے قبل حضرت امام حسین کے سامنے آکر پہلے سلام کرتا اور پھر آپ کی اجازت و دعا کے ساتھ میدان کارزار میں اتر کر جام شہادت نوش کرتا۔حضرت امام حسین ہر پر وانے کو اجازت دیتے ہوئے یہ آیت پڑھتے : فَمِنهُم مَن قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنتَظِرُ (الاحزاب:24) کہ ان میں بعض نے اپنی منتیں پوری کیں اور کچھ بھی انتظار میں ہیں کہ دل کی حسرتیں نکالیں۔حر کے بعد پندرہ وفاشعار جام شہادت نوش کر کے بیسیوں دشمنوں کو ہلاک کر چکے تو ابن سعد نے مبارزت کی بجائے یکبارگی حملہ کا فیصلہ کیا۔شمر نے اپنے لشکر اور حصین بن نمیر کے تیر اندازوں کی مدد کے ساتھ قافلہ امام حسین کے بائیں حصہ پر حملہ کیا جہاں مقابلے میں صرف بنتیں سوار تھے۔خیموں کی طرف سے تیر آنے پر شمر کا گھوڑ از خمی ہوا تو عمر بن سعد نے خیمے جلا دینے کا حکم دے دیا۔میدان کارزار گرم تھا کہ نماز ظہر کا وقت ہو گیا تو نواسہ رسول نے نماز ادا کرنے کی اجازت چاہی۔مگر ابن سعد اور اس کے مسلمان ساتھیوں نے یہ کہہ کر اجازت دینے سے انکار کیا کہ تم منکرین بیعت یزید ہو۔تمہاری نمازیں بھی قبول نہیں۔مجبوراً حضرت امام نے نماز خوف ادا کی۔نماز ظہر کے بعد پھر گھمسان کا رن پڑا۔مشہور جانباز سعید بن عبداللہ الحنفی نے امام حسین کے آگے سینہ سپر ہو کر جان دے دی۔ان کے بعد زہیر بن قیس شہید ہوئے۔یکے بعد دیگرے پروانے جائیں وار رہے تھے۔حنظلہ شامی لڑتے ہوئے کہتے جاتے تھے کہ نواسہ رسول کو شہید نہ کرنا ورنہ تم پر عذاب وارد ہو گا۔امام حسین نے فرمایا " یہ بد بخت ہو چکے ہیں ان پر نصیحت کا کوئی اثر نہیں"۔الغرض اڑ تھیں اور ساتھی شہید ہو گئے۔آخری ساتھی روتے ہوئے آگے بڑھے اور حضرت امام حسین سے عرض کیا کہ یہ آنسو آپ کی خاطر ہیں کہ ہم آپ کے لیے کچھ بھی نہ کر سکے حضرت امام حسین نے فرمایا خدا تمہیں متقیوں کی جزا دے۔سب فدائیوں کی شہادت کے بعد اب اہل بیت رسول کی باری آئی اٹھارہ سالہ صاحبزادہ علی اکبر میدان میں آئے اور دشمنوں کو للکارا أَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنُ عَلِي وَرَبِّ البَيْتَ وَلِيُّ بِالنَّبِيَّ یعنی میں علی بن حسین ہوں۔اور رب کعبہ کی قسم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیارا ہوں۔یہ کہہ کر انہوں نے بھی بے جگری سے لڑتے ہوئے بہادری کے ساتھ جان دے دی۔پھر کیا تھا پھوپھی