اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 328
اولاد النبی قیامت کرب و بلا 328 حضرت امام حسین آخر 10 محرم کی صبح قیامت برپا ہوئی۔حضرت امام حسین کے ساتھ صرف بہتر 72 جاں نثار تھے۔مقابل پر کئی ہزار مسلح سپاہی۔جھنڈا عباس کے ہاتھ میں تھا۔حضرت حسین نے میدان جنگ میں جانے سے قبل قرآن سامنے رکھا اور ہاتھ اٹھا کر دعا کی : "خدایا ! تو ہر مصیبت میں میر ابھر وسہ اور ہر تکلیف میں میرا آسرا ہے ہمیشہ تو ہی میراپشت و پناہ تھا اور ہمیشہ میں نے تیری طرف ہی رجوع کیا تو ہی ہر بھلائی کا مالک ہے " دعا کے بعد نکلے تو سامنے شمر تھا حضرت امام کے ایک ساتھی نے اس پر وار کرنے کی اجازت چاہی تو آپ نے منع کر دیا کہ پہل نہیں کرنی۔بریر بن حضیر نے حضرت امام حسین کی اجازت سے ابن سعد کو آل رسول کی غیرت اور خوف خدا دلایا۔اس نے کہا "ہم تو انہیں ابن زیاد کے پاس کو فہ لے جانا چاہتے ہیں "۔میدان جنگ میں اترنے سے قبل حضرت امام حسین نے عمامہ رسول سر پہ رکھا اور آخری طویل خطاب فرمایا جس میں اہل بیت کے حوالہ سے اپنے تعارف کے بعد مدینہ سے مکہ آمد اہل کوفہ کی دعوت اور مسلم بن عقیل کی شہادت کا ذکر کیا اور مد مقابل موجود داہل کوفہ کے سرداروں کے نام لے کر اتمام حجت کر کے فرمایا کہ کیا میں تمہارے بلاوے پر نہیں آیا؟ اس موقع پر ایک دفعہ پھر آپ نے دشمن سے واپسی کے پر امن راستہ کا مطالبہ کیا مگر دوسری طرف سے بدستور بیعت یزید پر اصرار یا یہ مطالبہ تھا کہ ہمارے ساتھ کو فہ چلیں۔اس پر آپ نے عمر بن سعد کوللکارا کہ " جس حکومت کی خاطر تم یہ سب کچھ کر رہے ہو وہ تمہیں کبھی نصیب نہ ہو گی"۔ابن سعد نے ناراض ہو کر اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اب کیا انتظار کرتے ہو اور ان کو کیوں مہلت دے رکھی ہے ؟ اس وقت ایک حیرت ناک واقعہ رونما ہوا۔یہ حضرت امام حسین کے اتمام حجت کا اثر تھا یا قدرت خداوندی کا کرشمہ کہ حر کی غیرت ایمانی جاگی۔وہ عمر بن سعد سے ملاقات کر کے گھوڑے پر سوار ، اپنی ڈھال آگے کئے امام حسین کی طرف بڑھا اور ڈھال پھینک کر معافی کا طلبگار ہوا اور لجاجت سے عرض کیا کہ میں ہی آپ کو گھیر کر کر بلا لے آیا ہوں۔آپ مجھے معاف کر دیں، اللہ بھی مجھے معاف کرے آپ بھی معاف کر دیں۔اور میری یہ درخواست قبول فرمائیں کہ آپ کی طرف سے لڑ کر جان کا نذرانہ پیش کر دوں۔یزیدیوں کا آغاز جنگ اب عمر بن سعد نے ایک علامتی تیر چلا کر جنگ کا آغاز کر دیا۔ادھر حضرت امام حسین نے حر کو اجازت دی۔وہ کمال بے جگری سے لڑے اور اکیلے چالیس مخالفین کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور کمال بہادری سے