اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 321
اولاد النبی 321 حضرت امام حسین ولادت حضرت امام ย حسین ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی " کے نواسہ حضرت امام حسین شعبان 4 ہجری میں پیدا ہوئے۔آپ اسلام کے چوتھے خلیفہ راشد حضرت علی کے صاحبزادے تھے۔نبی کریم اپنی صاحبزادی حضرت فاطمۃ الزہراء کے گھر میں بیٹے کی ولادت کی خوشخبری سن کر تشریف لائے۔آپ نے بچے کا نام حسین رکھا یعنی ظاہری حسن اور باطنی خوبیوں کو جمع کرنے والا۔اس کے کان میں خود اذان کہی۔حضرت فاطمہ نے ولادت حسن پر کی جانے والی نبی کریم کی نصیحت کے مطابق پہلے حسین کے سر کے بال منڈوائے پھر بالوں کے وزن کے برابر اللہ کی راہ میں چاندی صدقہ کی اور دو مینڈھے ذبح کر کے عقیقہ کروایا۔رسول کریم طی تم فرماتے تھے کہ ہر بچہ اپنے عقیقہ کی قربانی تک اس کے عوض رہن رہتا ہے۔مطلب یہ کہ دنیا جو آفات و آلام کا گھر ہے یہاں ایک نئی روح کے آنے پر اسے مصائب، کسی بیماری حادثہ یا تقدیر شر سے حفاظت کے لیے اس کی طرف سے رڈ بلا کے طور پر بکری وغیرہ کی قربانی کر دینی چاہیے۔اس لیے آپ حسب استطاعت لڑکے کی طرف سے دو مینڈھے اور لڑکی کی طرف سے ایک جانور قربانی اور دعا کی خاطر ذبح کروا کے گوشت رشتہ داروں اور مستحقین میں تقسیم کرواتے تھے۔صحبت و محبت رسول مطل عهد السلام حسین رسول الله تم تو ویسے ہی دل کے نرم اور بچوں کے لیے اور زیادہ شفیق تھے۔پھر آپ کی کوئی نرینہ اولاد بھی بڑی عمر کو نہیں پہنچی تھی۔اس لئے بھی طبعا آپ کو اپنے کم سن نواسوں حسن و حسین سے خاص محبت تھی۔خادم رسول حضرت انس کہتے تھے کہ اہل بیت میں آنحضور کو سب سے پیارے حسن و تھے۔رسول اللہ یکم اکثر ان کے گھر جا کر ان سے ملاقات فرماتے ان کی بچگانہ ادائیں دیکھ کر خوش ہوتے انہیں اٹھاتے اور فرط محبت سے انہیں سینہ سے چمٹا لیتے۔مسجد نبوی میں رسول اللہ صلی می کنیم حالت سجدہ میں ہوتے اور یہ بچے آپ کی پشت پر سوار ہو جاتے۔نماز کے بعد آپ انہیں گود میں اٹھا لیتے۔ایک دفعہ رسول کریم یکم جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ حسین مسجد میں داخل ہوئے۔آپ کی نظر اپنے کم سن نواسہ