اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 291
اولاد النبی 291 حضرت فاطمہ بنت محمد معافی ہوتے ہیں۔کبھی کبھی صلحاء بلکہ اکا بر اتقیاء اور اصفیاء کے تنازعات میں بھی کینہ اور بغض پیدا ہو جاتا ہے۔اور اس میں اللہ رب العالمین کی مصلحتیں ہوتی ہیں۔الہذا جو کچھ بھی ان (صحابہ) کے درمیان واقع ہوا یا ان کی زبانوں سے نکلا اسے بیان کرنے کی بجائے اسے 41" لپیٹ دینا ہی مناسب ہے اور ان کے امور کو اللہ کے حوالہ کر ناجو کہ صالحین کا متولی ہے واجب ہے۔" چنانچہ رسول اللہ علیم کی وفات کے بعد حضرت فاطمہ چھ ماہ زندہ رہیں۔آپ کی آخری بیماری میں حضرت ابو بکر خلیفہ المسلمین خود عیادت اور ملاقات کے لئے تشریف لائے اور حضرت فاطمہ سے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو حضرت علیؓ نے حضرت فاطمہ کو اطلاع دی جس پر آپ ان کے پاس تشریف لائے۔حضرت ابو بکر نے اس موقع پر ایک بار پھر واضح فرمایا کہ خدا کی قسم میں نے تو اپنا گھر بار ، خاندان اور قبیلہ صرف خدا کی رضا، اس کے رسول کی رضا اور اہل بیت سے محبت کی خاطر چھوڑا تھا۔الغرض حضرت ابو بکر کے سمجھانے اور حقیقت کھل جانے پر حضرت فاطمہ ان سے راضی ہو گئیں۔اور یوں ان کا انجام بخیر ہوا۔تاریخی لحاظ سے یہ بات اتنی 42 پختہ ہے کہ خود شیعہ لٹریچر سے بھی اس امر کی تائید ہوتی ہے کہ حضرت ابو بکر حضرت فاطمہ کے پاس آئے اور وہ ان سے راضی ہو گئیں۔وفات 43 حضرت فاطمہ نے اپنے والد بزرگوار رسول خدا نیم کی وفات کے چھ مہینے بعد تین 3 رمضان سن 10 ہجری میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔وفات کے وقت آپ کی عمر 21، 22 برس تھی۔حضرت ام جعفر (اسماء بنت عمیس ) روایت کرتی ہیں کہ حضرت فاطمہ نے حضرت اسماء سے کہا کہ عورتوں سے (بوقتِ وفات) جو معاملہ ہوتا ہے وہ مجھے پسند نہیں کہ ان کے اوپر محض ایک کپڑا ڈال دیا جاتا ہے اور اس کی جسمانی ساخت ظاہر ہورہی ہوتی ہے۔حضرت اسماء نے کہا کہ رسول اللہ علیم کی صاحبزادی کیا میں آپ کو ایسی چیز نہ دکھاؤں جو میں نے حبشہ کے ملک میں دیکھی تھی۔پھر انہوں نے کچھ کھجور کی شاخیں منگوائیں اور پھر اس پر ایک کپڑاڈال دیا۔اس پر حضرت فاطمہ نے فرمایا کہ یہ کتنا عمدہ طریق ہے۔اس سے جو مرداور عورت کے مابین ما بہ الامتیاز ہو سکتا ہے۔پس جب میری وفات ہو تو آپ حضرت علیؓ کے ساتھ مل کر مجھے غسل دینا اور دیکھنا کوئی اور اس وقت اندر داخل نہ ہو۔