اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 13
ازواج النبی اسی طرح فرمایا:۔13 تعددازدواج رسول الله ل م م ساری باتوں کے کامل نمونہ ہیں۔آپ کی زندگی میں دیکھو کہ آپ عورتوں کے ساتھ کیسی معاشرت کرتے تھے۔میرے نزدیک وہ شخص بزدل اور نامرد ہے جو عورت کے مقابلہ میں کھڑا ہوتا ہے۔آنحضرت لی نیم کی پاک زندگی کا مطالعہ کرو تا تمہیں معلوم ہو کہ آپ ایسے خلیق تھے۔" آنحضرت ملی یا یتیم کی چار سے زیادہ شادیاں یہاں ایک اہم سوال آنحضور طی یکم کی بیک وقت چار سے زیادہ شادیوں کے بارہ میں اٹھتا ہے کہ جب عام مومنوں کے لئے چار تک نکاح کرنے کی اجازت ہے۔(النساء : 4) تو نبی کریم کے حرم میں اس سے زائد بیویاں کیوں رہیں؟ دراصل چار شادیوں کی حد بندی والی سورہ النساء کی آیات کا نزول 7ھ میں ہوا۔جس کے بعد آنحضرت علیم نے کوئی اور شادی نہیں کی اور نہ کسی بیوی سے علیحدگی اختیار کی اور یوں آپ کو اس وقت موجود نو ازواج کے رکھنے کی خصوصی رخصت بوجوہ عطا ہوئی۔اس کی وضاحت قرآن شریف کی اس آیت میں موجود ہے لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاء مِنْ بَعْدُ وَلَا أَن تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ إِلَّا مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ۔یعنی اس کے بعد تیرے لئے (اور) عور تیں جائز نہیں اور نہ یہ جائز ہے کہ ان (بیویوں) کے بدلے میں تو اور بیویاں کر لے خواہ ان کا حسن تجھے پسند ہی کیوں نہ آئے۔مگر وہ مستثنیٰ ہیں جو تیرے زیر نگیں ہیں۔(الاحزاب : 53) حضرت مولانانور الدین صاحب خلیفہ المسیح الاول اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ابن عباس اور مجاہد اور ضحاک اور قتادہ اور حسن اور ابن سیرین کا قول ہے کہ جس وقت یہ آیت اتری اس وقت حضرت کے نکاح میں نو بیبیاں۔۔۔۔موجود تھیں۔۔۔۔اور یہ ازواج سورۂ نساء کے نزول کے پہلے سے ہو چکی تھیں جس میں چار بیبیوں کی حد قائم ہوئی تو یہ کہنا غلط العام بات ہے کہ حضرت نے چار کی حد کو اپنے واسطے توڑ دیا کیونکہ سورہ نساء مدنی ہے اور اس سورۃ کے نو سال بعد نازل ہوئی ہے اس لئے جن مسلمانوں کے پاس چار سے زیادہ عور تیں تھیں انہوں نے چار کے سوا باقی چھوڑ دیں مگر آنحضرت کی بیبیاں چونکہ دوسرا نکاح نہیں کر سکتی تھیں اور نہ کوئی دوسرا مسلمان آداب و تعظیم کے لحاظ سے جب انہیں ماں سمجھتا تھا تو ان کو اپنے نکاح میں لا سکتا تھا۔اس لئے آپ کی بیبیاں بمصلحت بحال رہیں اور ساتھ ہی دوسری عورتوں سے نکاح کرنا منع