اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 260
اولاد النبی 260 حضرت زینب بنت محمد دودھ پیا پھر رسول اللہ صلی علی کریم نے انہیں اپنی نگرانی میں لے لیا۔ابو العاص اس وقت مکہ میں حالت شرک میں 13 14 P حضرت اسامہ بن زید حضرت زینب کے ایک صاحبزادے کی وفات کا واقعہ یوں بیان کرتے ہیں کہ صاحبزادی زینب نے آنحضور کو پیغام بھجوایا کہ میرا بیٹا جان کنی کے عالم میں آخری سانس لیتا نظر آتا ہے، آپ تشریف لے آئیں۔رسول اللہ ہی ہم نے فرمایا ان کو جاکر سلام کہو اور یہ پیغام دو کہ یہ اللہ کا ہی مال تھا، جو اس نے عطا کیا تھا اور اسی نے واپس لے لیا ہے۔اور ہر شخص کی اللہ کے پاس میعاد مقرر ہے۔اس لئے میری بیٹی صبر کرے اور اللہ سے اس کے اجر کی امید رکھے۔اس پر آپ کی صاحبزادی نے دوبارہ پیغام بھجوایا اور قسم دے کر کہلا بھیجا کہ آپ ضرور تشریف لائیں۔آپ تشریف لے گئے، حضرت سعد بن عبادہ، حضرت معاذ بن جبل، حضرت ابی بن کعب اور حضرت زید بن ثابت اور کچھ اور اصحاب آپ کے ساتھ تھے۔وہ بچہ آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔جس کی جان نکل رہی تھی۔رسول اللہ علیہ علم کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔حضرت سعد نے تعجب سے کہا یارسول اللہ علی میں ہم یہ کیا؟ آپ نے فرمایا یہ محبت ہے جو اللہ نے اپنے بندوں کے دلوں میں پیدا کی ہے۔بعض روایات میں حضرت زینب کے بیٹے کی بجائے بیٹی کی وفات کا ذکر ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک کم سن بیٹی (نواسی مراد ہے ) آخری دموں پر تھی۔رسول کریم می لی ہم نے اسے اپنے سینے سے چمٹایا پھر اس پر اپنا ہاتھ رکھا اسی دوران اس کی روح پرواز کر گئی۔بچی کی میت رسول اللہ علیم کے سامنے تھی۔رسول اللہ صلی یا یتیم کی رضاعی والدہ ام ایمن رو پڑیں۔رسول کریم طی تم نے اسے فرمایا۔اے ام ایمن ! رسول اللہ لی یتیم کی موجودگی میں تم روتی ہو وہ بولیں جب خدا کا رسول بھی رو رہا ہے تو میں کیوں نہ روؤں۔رسول کریم ملی نیم نے فرمایا میں روتا نہیں ہوں۔یہ تو محبت کے آنسو ہیں پھر آپ نے فرمایا مومن کا ہر حال ہی خیر اور بھلا ہوتا ہے۔اس کے جسم سے جان قبض کی جاتی ہے اور وہ اللہ کی حمد کر رہا ہوتا ہے۔حضرت ابو قتادہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ لی تم نماز پڑھ رہے تھے اور حضرت زینب کی بیٹی امامہ کو 15 16 اٹھایا ہوا تھا۔جب آپ سجدہ کرتے تو اسے نیچے بٹھا دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو اٹھا لیتے۔0