اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 257 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 257

اولاد النبی 257 حضرت زینب بنت محمد رض ย سے نکال کر لے گئے تو لوگ کہیں گے کہ ہماری کمزوری ہے۔بہتر ہو گا کہ ابھی ہمارے ساتھ واپس مکہ چلو پھر کسی وقت رات کو چھپ کر خاموشی سے نکل جانا۔چنانچہ آپ مکہ واپس تشریف لے آئیں اور پھر کچھ عرصہ گزر جانے کے بعد جب معاملہ ٹھنڈ اپڑ جانے تک ہجرت کا ارادہ موقوف کیا۔اس واقعہ پر آپ کے میکے بنو ہاشم اور آپ کے سُسرال بنوامیہ جھگڑ پڑے۔بنوامیہ نے کہا ہم اسکے زیادہ قریبی ہیں اس لئے حضرت زینب کو مکہ میں ہمارے پاس ہی رہنا چاہئے۔چنانچہ وہ اپنے شوہر کے گھر رہیں یہاں تک کہ غزوہ بدر پیش آگیا۔حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ جنگ بدر کے بعد جب اہل مکہ نے اپنے قیدیوں کا فدیہ بھیجا تو حضرت زینب نے (جو ابھی مکہ میں ہی تھیں) ابو العاص کی آزادی کے لئے فدیہ کے مال میں حضرت خدیجہ کا وہ ہار بھی بھجوایا جو انہوں نے شادی کے وقت حضرت زینب کو پہنا کر ابو العاص کے گھر رخصت کیا تھا۔حضور نے وہ ہار دیکھا جو ایک ماں کی بیٹی کیلئے نشانی تھی، اور جو ایک مجبور مومنہ کو حالتِ کسمپرسی میں بھجوانی پڑی تھی تو آپ پر سخت رقت طاری ہو گئی۔آپ نے حضرت زینب کی راہ ہجرت ہموار کرنے کی خاطر صحابہ سے از راہ مشورہ فرمایا اگر تم پسند کرو تو زینب کے خاوند کو بغیر کچھ لئے چھوڑ دو اور اس کے فدیہ میں آیا ہوا مال واپس کر دو۔صحابہ نے بخوشی ایسا کیا۔حضور طی تم نے ابو العاص سے بھی وعدہ لیا کہ وہ حضرت زینب کو مدینہ بھیج دیں گے۔0 جنگ بدر کے ایک ماہ بعد حضرت ابو العاص مکہ واپس آئے۔اس دوران حضرت زینب ہند بنت عتبہ بن ربیعہ بن الحارث بن عبد المطلب کے گھر رہائش پذیر رہیں۔جہاں ابو سفیان کی بیوی ہند آنحضور کی صاحبزادی زینب کو طعنہ دیتی تھی کہ یہ سب تکلیفیں تیرے باپ کی وجہ سے ہیں۔حضور علی یا ہم کو جب اپنی بیٹی کی اس اذیت ناک حالت کی اطلاع ملی تو آپ نے حضرت زید بن حارثہ سے فرمایا کہ کیا تم زینب کو میرے پاس لا سکتے ہو ؟ حضرت زید نے عرض کیا، یارسول اللہ صلی علم ! کیوں نہیں۔چنانچہ حضور علی علیم نے فرمایا میری یہ انگوٹھی لے جاؤ اور زینب کو پہنچادو۔حضرت زید کمال حکمت سے مکہ گئے اور شہر کے نواح میں پہنچ کر جائزہ لینے لگے۔اس دوران حضرت زید ایک چرواہے سے ملے اور اس سے پوچھا کہ تم کس کے ملازم ہو ؟ اس نے بتایا کہ میں ابوالعاص کا ملازم ہوں۔پھر حضرت زید نے پوچھا یہ بکریاں کس کی ہیں؟ اس نے کہا زینب بنت محمد علیم کی۔اس پر حضرت زید نے نبی کریم علیم کی انگوٹھی اس چرواہے کے ذریعہ حضرت زینب کو بھجوائی۔انگوٹھی دیکھ کر وہ سمجھ گئیں۔کہ ان کے مقدس باپ کا سندیسہ ہے۔