اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 184
ازواج النبی فضائل 184 ام المؤمنین حضرت صفیہ ย حضرت صفیہ یہودی سردار حیی بن اخطب کی بیٹی حضرت صفیہ کی رسول اللہ علیم سے شادی میں بھی خدائی تقدیر کار فرما تھی۔جس کی اطلاع اللہ تعالیٰ نے حضرت صفیہ جیسی پاک مزاج بی بی کو شادی سے پہلے بذریعہ خواب دے دی تھی۔حضور علی السلام نے خیبر سے واپسی پر حضرت صفیہ سے شادی کے بعد ان کے ہودج میں بیٹھنے کی جگہ مزید نرم کرنے کیلئے اپنی عبائہ کر کے اس پر بچھادی۔پھر آپ نے انہیں اونٹ پر سوار کروانے کے لئے اپنا گھٹنا جھکادیا تا کہ وہ اس پر پاؤں رکھ کر سہولت سے اونٹ پر بیٹھ سکیں۔اور انہیں ازواج مطہرات جیسا پردہ کروایا جس سے صحابہ سمجھ گئے کہ وہ " ام المؤمنین ہیں۔نبی کریم نے غزوہ خیبر کے اسباب کی حقیقت کھول کر حضرت صفیہ کے سامنے بیان کی اور اس جنگ کے دوران ان کے عزیزوں کے ہلاک ہونے پر دلا سا دیتے ہوئے اس قدر دلی معذرت کی کہ آپ کے بارہ میں ان کا سینہ صاف ہو گیا وہ خود بیان فرماتی تھیں کہ اس سے پہلے آنحضرت سے بڑھ کر میرے لئے کوئی قابل نفرین وجو د نہیں تھا مگر آپ کے ساتھ پہلی نشست کے بعد جب میں اٹھی تو آنحضرت علی علی ہستم سے زیادہ کوئی مجھے محبوب نہ تھا۔آپ ہی مجھے سب سے پیارے اور سب سے زیادہ عزیز تھے۔" رسول الله علیم کی آخری بیماری میں حضرت صفیہ نے عرض کیا کہ کاش آپ کی بیماری مجھے مل جائے اور آپ کو شفاء ہو۔کسی بیوی نے اس پر طنزیہ اشارہ کیا تو رسول اللہ صلی الکریم نے فرمایا " خدا کی قسم یہ اپنی بات میں سچی ہے گویا مجھے صدق دل سے چاہتی ہے۔" نام و نسب حضرت صفیہ کا اصل نام زینب تھا۔آپ یہودی قبیلہ بنو نضیر کے سردار حیی بن اخطب کی بیٹی تھیں۔