اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 157 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 157

ازواج النبی 157 حضرت جویریہؓ رض مگر مسلمانوں نے ان کو گھیرے میں لے لیا، پہلے فریقین کے درمیان تیر اندازی ہوئی پھر مسلمانوں نے ہلہ بول کر یکدم ان پر حملہ کیا۔اس تمام مقابلے میں صرف ایک مسلمان شہید اور دس کافر ہلاک ہوئے اور دشمن کو شکست فاش ہوئی۔دشمن کی عورتیں اور بچے وغیرہ قیدی بنالئے گئے۔حضرت جویریہ بھی ان میں شامل تھیں۔حضور علی کریم نے قیدی تقسیم کئے۔جو یہ یہ ایک انصاری صحابی حضرت ثابت بن قیس کے حصے میں آئیں۔جنہوں نے ان سے مکاتبت کر کے آزاد کرنے کا تحریری معاہدہ کر لیا۔ان کی آزادی کے عوض سردار کی بیٹی ہونے کے ناطے نواوقیہ کی ایک بھاری رقم ان کے ذمہ لگائی۔جس کی مالیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس زمانہ میں زکوۃ کا نصاب ( یعنی وہ رقم جس کی موجودگی میں کسی مسلمان پر زکوۃ واجب ہوتی تھی) پانچ اوقیہ چاندی یعنی قریباًد و صد درہم تھا اور یہ قریباً اس سے دگنی رقم تھی۔یہ ساری رقم آنحضرت ا ہم نے حضرت جویریہ کی طرف سے بطور حق مہر ادا کی اور انہیں آزاد کر کے ان سے نکاح فرمایا۔رسول اللہ صلی یا تم سے شادی حضرت عائشہ اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ حضرت جویریہ خوبرو خاتون تھیں۔انہوں نے حضرت ثابت سے ایک خطیر رقم کے عوض اپنی آزادی کا معاہدہ کیا اور اس سلسلے میں حضور علیم کے پاس امداد لینے کی غرض سے آئیں۔ایک عورت ہونے کے ناطہ سے مجھے طبعا دل میں کچھ وسوسہ سا پیدا ہوا۔اس پر طرہ یہ کہ حضرت جویریہ نے نہایت عمدگی اور کمال فصاحت کے ساتھ اپنا سارا معاملہ آنحضور کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے عرض کیا " یار سول اللہ صلی تیم ! آپ جانتے ہیں کہ میں اپنے قبیلہ بنو مصطلق کے سردار حارث کی بیٹی ہوں جو مصیبت ہماری قوم کو پہنچی ہے وہ آپ سے مخفی نہیں۔میں نے حضرت ثابت کے ساتھ آزادی کا تحریری معاہدہ کر لیا ہے۔اب میں آپ سے اس مکاتبت کی رقم میں مدد حاصل کرنے کے لئے حاضر ہوئی ہوں۔اس کی کہانی سے آنحضرت طلیلی لیلا کہ تم بہت متاثر ہوئے۔معلوم ہوتا ہے حضور طی یا ہم نے اس خیال سے کہ یہ قبیلے کے سردار کی بیٹی ہیں۔اور ان کے ساتھ تعلق عقد کے نتیجہ میں یہ قبیلہ اسلام کے اور قریب آسکتا ہے۔چنانچہ آنحضرت عالی ہم نے حضرت جویریہ سے فرمایا کہ "آزادی میں مالی امداد سے بہتر کوئی اختیار آپ کو مل جائے تو کیا وہ مناسب نہ ہو گا۔انہوں نے پوچھا وہ 8