اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 128
ازواج النبی 128 حضرت ام سلمہ ย حضرت ام سلمہ کی ذہانت کا اندازہ بعض اور روایات سے بھی ہوتا ہے۔ایک موقع پر انہوں نے آنحضرت ایسی ہم سے پوچھا کہ یارسول اللہ ینم ! ایک عورت کو اپنے خاوند کی وفات کے بعد دوسری شادی پھر تیسری اور چوتھی کرنی پڑتی ہے۔تو وفات کے بعد اگر اس کے سب شوہر بھی جنت میں ہوئے۔تو وہ ان میں سے کس کے ساتھ ہو گی۔آنحضرت لیلی یا تم نے فرمایا " اس کا اختیار بیوی کو ہو گا اس سوال سے 3511 حضرت ام سلمہ کی رسول اللہ علیم سے سچی محبت اور دونوں جہانوں میں معیت کی خواہش بھی ظاہر ہے۔حضرت ام سلمہ کی اولاد حضرت ام سلمہ کی اولاد میں دو بیٹوں سلمہ اور عمرؓ اور دو بیٹیوں درہ اور زینب کا ذکر ہو چکا ہے۔حضرت ام سلمہ کے رسول اللہ علیم کے عقد میں آنے کے بعد ان کے بچوں کی پرورش آنحضور طی می کنم کے گھر میں ہونے لگی۔آپ نے خودان بچوں کو کھانے پینے کے آداب سکھائے۔اور نہ صرف ان کے لئے دعائیں کیں بلکہ ہر طرح سے انکا خیال رکھا۔بڑے بیٹے سلمہ (جو اپنی والدہ حضرت ام سلمہ کے آنحضور طی می کنیم سے نکاح کے موقع پر ولی تھے ) کارشتہ عمرۃ القضاء سے واپسی پر 7ھ میں چھوٹی عمر میں ہی آپ نے خود اپنے چچا حضرت حمزہ کی بیٹی امامہ سے جس محبت اور خلوص سے طے کیا اس کا اظہار اپنے صحابہ سے یوں فرمایا کہ تمہارا کیا خیال ہے میں نے اس کا بدلہ چکا دیا۔آپ کا اشارہ اس طرف تھا کہ حضور طی نیم کے نکاح کے وقت اس بچے نے حضرت ام سلمہ کے ولی کے طور پر ایجاب و قبول کیا تھا۔اگرچہ بعد میں سلمہ ذہنی لحاظ سے معذور اور بیمار ہو گئے تو امامہ بنت حمزہ کی شادی ان سے تو نہ ہو سکی اور حضرت ام سلمہ کے دوسرے بیٹے اور سلمہ کے چھوٹے بھائی عمر بن سلمہ کے ساتھ یہ رشتہ طے پایا اور شادی ہوئی۔اور یہ سب حضور طی نیم کی طرف سے سلمہ کی قدر دانی کے طور پر معلوم ہوتا تھا۔سلمہ عبد الملک بن مروان کے زمانہ تک زندہ رہے۔دوسرے بیٹے عمر کی پیدائش ہجرت حبشہ کے زمانہ میں ہوئی تھی۔رسول اللہ سلیم کی وفات کے وقت وہ نو سال کے تھے۔حضرت علیؓ کے زمانہ خلافت میں وہ ایران اور بحرین کے امیر مقرر ہوئے۔اور عبدالملک بن مروان کے زمانے میں ان کی وفات ہوئی۔تیسری صاحبزادی زینب تھیں جو حبشہ میں پیدا ہوئیں ان کا نام بڑہ تھا جسے بدل کر آنحضرت ہم نے 37 36 زینب نام رکھا تھا۔38